Urdu book · تصویر ملت

دعوتی عمل

Urdu book, p. 354

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوتی عمل اس جزیرہ میں تو صرف مگر مچھ اور سانپ اور کھنکھجورے ہیں “ مسیحی سیاح نے اپنی سیاحت سے واپس آکر مسیحی مشنری کو رپورٹ دی۔ ”خیر انہیں ہونے دو یہ بتاؤ کہ کیا وہاں کچھ انسان بھی ہیں “ ”ہاں، ہیں کیوں نہیں۔ مگر ایسے وحشی اور خونخوار ہیں کہ ان کے درمیان قدم رکھنے کا تو خیال بھی نہ کیجئے “ ”بس معلوم ہو گیا ۔ اتنی اطلاع کافی ہے۔ انسان جہاں کہیں بھی آباد ہیں ، مشنری کا وہاں پہنچنا ضروری ہے “ یہ خلاصہ ہے اس گفتگو کا جو ایک مسیحی سیاح اور لندن مشنری سوسائٹی کے ایک ذمہ دار کے درمیان ۱۹۱۷ء میں جزیرہ نیو گنی کے جنوبی ساحل پر ہوئی۔ اس کے بعد جزیرہ میں مشنری کا کام شروع ہو گیا۔ اور اب اس گفتگو کے سو برس بعد جزیرہ نہ صرف مہذب ہو چکا ہے بلکہ اس کی بیشتر آبادی عیسائی ہے۔ دو ہزار برس پہلے مسیح ۱۹۳ء اس دنیا سے گئے تو ان کے پیچھے صرف ایک درجن عیسائی تھے ۔ مگر مسلسل تبلیغ کے نتیجہ میں آج عیسائیوں کی تعداد تمام مذاہب میں سب سے زیادہ ہے ۔ عیسائیوں کے تبلیغی ادارے اتنے منظم ہیں اور اتنے وسیع پیمانہ پر کام کر رہے ہیں جس کی کوئی دوسری مثال ساری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے برعکس مسلمانوں پر ان کے پیغمبر نے یہ ذمہ داری ڈالی تھی کہ وہ قیامت تک ساری قوموں تک اسلام کا پیغام پہنچاتے رہیں۔ مگر پیغمبر اسلام کے ابتدائی پیرووں کے بعد یہ کام تقریباً بند ہو گیا۔ بلاشبہ اسلام بعد کی صدیوں میں بھی پھیلتا رہا ہے۔ مگر وہ زیادہ تر خود اپنے زور پر پھیلا ہے۔ ورنہ مسلمانوں کا محبوب ترین مشغلہ جس میں وہ موجودہ سائنٹفک دور میں بھی انتہائی انہماک کے ساتھ لگے ہوئے ہیں ، وہ جنگ و جدل اور سیاسی معرکہ آرائی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور چیز انھیں کام ہی نظر نہیں آتی جس میں وہ اپنے آپ کو مشغول کریں۔ اس عموم میں بعض استثناء ضرور ہے ۔ مگر وہ استثناء اصاغر کا ہے نہ کہ اکابر کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page