تزکیہ نفس
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ سماج کے اندر رہتے ہوئے انسان بار بار ایسے حالات سے گزرتا ہے جو اُس کے اندر منفی جذبات پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً غصہ، نفرت، تشدد، انتقام، وغیرہ۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان جذبات کو فوراً ختم کرے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ منفی جذبات انسانی ذہن کا مستقل حصہ بن جائیں گے، یہاں تک کہ اُن کو دور کرنا عملًا ناممکن ہو جائے گا۔ انسانی دماغ کے دو بڑے حصے ہیں ــ شعور (conscious mind)، اور لاشعور (unconscious mind)۔ فطری نظام کے تحت، کوئی منفی احساس پہلے ذہن کے شعوری حصے میں داخل ہوتا ہے۔ اگر اس کو فوراً ذہن سے نکالا نہ جائے تو وہ دھیرے دھیرے ذہن کے لاشعوری حصہ میں پہنچ جاتا ہے، جہاں سے اس کو نکالنا سخت مشکل ہو جاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنا نگراں بنا رہے، وہ ہر لمحہ اپنے منفی احساس کو پراسس (process) کر کے مثبت احساس میں تبدیل کرتا رہے، یعنی وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کرے، وہ اپنے ذہن کی تطہیر کر کے اس کی آلودگی کو ختم کرتا رہے۔ اس تطہیر یا ڈی کنڈیشنگ کا ذریعہ ہے—اپنی موت کو بار بار یاد کرنا اور قرآن کی روشنی میں زندگی کے انجام پر غور و فکر کرتے رہنا۔ تزکیہ: روحانی خوراک جسم کی ایک خوراک ہے۔ یہ خوراک جسم کو پہنچائی جائے تو جسم صحت مند ہو جائے گا۔ اسی طرح روح کی ایک خوراک ہے۔ یہ خوراک جب روح کو پہنچائی جاتی ہے تو روح صحت مند ہو جاتی ہے۔ اسی عمل کا نام تزکیۂ نفس ہے اور اسی صحت مند روح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader