Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ: روحانی خوراک

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

کو مصطفیٰ اور مزکی روح کہا جاتا ہے۔ قرآن کے مطابق، روح کی یہ خوراک تکثیر (191 :3) ہے۔ آدمی کے اردگرد ہر وقت کچھ واقعات پیش آرہے ہیں۔ سماجی، تاریخی، کائناتی، ہر سطح پر اور ہر آن ان واقعات کا ظہور ہوتا رہتا ہے۔ ان واقعات کو لے کر سوچنا اور اُن سے عبرت اور نصیحت لینا، یہی روح کی خوراک ہے۔ جو شخص اپنے شعور کو اتنا ترقی دے کہ اُس کو گرد و پیش کے واقعات میں خدائی کرشمے دکھائی دیں، جو اُس کے لیے خدا کو یاد دلانے کا ذریعہ بن جائیں تو ایسے شخص نے گو یا اپنی روح کے لیے رزقِ ربانی کا ایک دسترخوان حاصل کر لیا۔ اس کی روح اس دستر خوان سے اپنی صحت مندی کی خوراک حاصل کرتی رہے گی، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جا ملے۔ تزکیہ کا اہم ترین ذریعہ یہ ہے کہ اپنے اندر عبرت پذیری کے مزاج کو جگایا جائے۔ عبرت پذیری گویا تزکیہ کی زمین ہے۔ یہی وہ زمین ہے جس پر تزکیہ کی فصل اگتی ہے۔ کسی اور جگہ اس کو اگانا ایسا ہی ہے جیسے پتھر کی چٹان پر ایک ہرا بھرا درخت اگانے کی کوشش کرنا۔ تزکیہ کا ذریعہ رزقِ رب ہے، نہ کہ رزقِ شیخ۔ تزکیہ اُس عمل کا نتیجہ ہے جو بندہ اور خدا کے درمیان نفسیاتی تعلق کے ذریعے براہِ راست قائم ہوتا ہے، تزکیہ کسی واسطے کے ذریعے نہیں ملتا۔ تزکیہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک خدائی عطیہ ہے، نہ کہ ایک انسانی عطیہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page