تزکیہ نفس
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
خود احتسابی کا یہی مزاج تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ تزکیہ ہمیشہ داخلی سوچ کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے، نہ کہ خارجی نوعیت کی کسی کارروائی کے ذریعے ۔ تزکیہ وہ عمل ہے جس میں آدمی خود اپنا مُرَبّی ہوتا ہے، وہ خود ہی طالب علم ہوتا ہے اور خود ہی اپنا استاد بھی۔ مبنی بر قلب ، مبنی بردماغ قرآن کی سورہ آل عمران کے آخری رکوع کو پڑھیے ۔ اس رکوع میں اولو الالباب (اہل عقل ) کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے زمین وآسمان (کائنات) پرغور کرو۔ اس میں تم اللہ کی نشانیاں دیکھو گے ۔ اس کے ذریعہ تم اپنے رب کو پہچانو گے ۔ اس کے ذریعہ تم خدا کے تخلیقی منصوبہ کا علم حاصل ہوگا۔ اس کے ذریعہ تم جنت اور جہنم کو دریافت کرو گے ۔ اس کے ذریعہ تم کو پیغمبر کی اہمیت معلوم ہوگی ۔ غرض وہ تمام چیزیں جس کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ طور پر تزکیہ سے ہے، اُن سب کو اس رکوع میں کائناتی تفکر سے وابستہ کیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ قرآن کا تزکیہ مبنی بر عقل تزکیہ ہے، نہ کہ مبنی بر قلب تزکیہ۔ اس سلسلے میں ”قلب‘‘ کا لفظ قرآن اور حدیث میں لٹریری معنوں میں استعمال کیا گیا ہے، نہ کہ سائنسی معنوں میں۔ بعد کے زمانے میں صوفیا کے اثر سے مسلمانوں میں مبنی بر قلب تزکیہ کا تصور رائج ہو گیا۔ اس تصور کے تحت یہ سمجھ لیا گیا کہ انسان کا قلب تمام ربانی حقیقتوں کا خزانہ ہے۔ مراقبہ (meditation) کے ذریعہ اس خزانہ تک پہنچو، اور پھر تم کو وہ چیز حاصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader