Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ سے پہلے

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے رہبرِ کامل کے طور پر قبول کرلیتا ہے ۔ یہی وہ تمام عارفانہ تجربات ہیں جن کے مجموعے کا نام تزکیہ ہے ۔ تزکیہ اور محاسبہ تزکیہ کوئی ایک بار کا عمل نہیں، یعنی ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص ایک بار کوئی کورس کرے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے ایک مزکی انسان بن جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ عمل (process) آدمی کی زندگی میں ساری عمر جاری رہتا ہے، موت سے پہلے وہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ تزکیہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے۔ اس عمل میں آدمی کو خود اپنا نگراں بننا پڑتا ہے۔ جو آدمی تزکیہ کا طالب ہو، اس کو چاہیے کہ وہ ہر لمحہ اپنے قول و عمل کی نگرانی کرتا رہے، وہ انتہائی بے لاگ انداز میں بار بار اپنا جائزہ لیتا رہے۔ خود احتسابی کا یہ عمل صرف اُس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جس کے اندر ندامت (repentance) اور محاسبہ (introspection) کی صلاحیت پائی جائے ۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر لمحہ آدمی کے لیے آزمائش کی سورتیں پیش آئیں، بار بار وہ نفس کے تقاضوں سے متاثر ہو، شیطان کی ترغیبات اس کو کسی غیر مطلوب چیز میں ملوث کردیں، ماحول کے اثر سے وہ کسی غلط چیز کا شکار ہو جائے ، وغیرہ ۔ اس قسم کی تمام چیزیں تزکیہ کی ضد ہیں ۔ آدمی کو اتنا زیادہ حساس ہونا چاہیے کہ وہ ہر ایسے موقع پر جاگ اٹھے، وہ ہر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page