تزکیہ نفس
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
موقع پر اپنی تطہیر کی کوشش میں لگ جائے ، وہ ہر ایسی آلودگی کے موقع پر دوبارہ اپنے آپ کو پاکیزہ بنائے ۔ یہی تزکیہ ہے ۔ اس قسم کی خود احتسابی کے بغیر کوئی شخص مزکی شخصیت(purified personality) کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ محاسبہ سے ذہنی ارتقا(intellectual development) حاصل ہوتا ہے ، اور ذہنی ارتقا اس بات کا ضامن ہے کہ تزکیہ کا عمل کسی رکاوٹ کے بغیر آدمی کے اندر جاری رہے۔ تزکیہ اور تواضع فصل کے لیے موافق زمین درکار ہے۔ فصل ہمیشہ زرخیز زمین پر اگتی ہے ، بنجر زمین پر کبھی فصل نہیں اگتی ۔ اسی طرح تزکیہ کے لیے بھی موافق زمین درکار ہے۔ تواضع (modesty) تزکیہ کے لیے موافق زمین ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت ہوگی ، اس کے لیے تزکیہ کا حصول آسان ہو جائے گا۔ اس کے برعکس ، کبر (arrogance) تزکیہ کے لیے ایک غیر موافق زمین ہے۔ جس آدمی کے اندر کبر کا مزاج ہو ، وہ کبھی تزکیہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تواضع (modesty) سے آدمی کے اندر کمی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ متواضع انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ مجھے کچھ اور پانا ہے جو میرے اندر نہیں ہے۔ اس احساس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے جب سچائی آتی ہے تو وہ کسی تحفظ ذہنی (reservation) کے بغیر اس کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ بے لاگ انداز میں اس کا جائزہ لیتا ہے۔ وہ بہت جلد در یافت کر لیتا ہے کہ سچائی اس کے لیے اس کی کمی کی تلافی ہے۔ وہ سچائی کو خود اپنی چیز سمجھ کر اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader