تزکیہ نفس
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
قبول کرلیتا ہے۔ یہی صفت تزکیہ کی روح ہے۔ اس کے برعکس معاملہ متکبر انسان کا ہے۔ متکبر انسان کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ میرے پاس پہلے ہی سے سب کچھ موجود ہے، مجھے کسی سے کچھ اور لینے کی ضرورت نہیں۔ اس نفسیات کی بنا پر وہ باہر کی کسی چیز کو لینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ وہ مصلح کی بات کو آسانی کے ساتھ رد کر دیتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اس کے لیے تزکیہ کے حصول میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تزکیہ ایک مسلسل عمل ہے۔ تزکیہ کا یہ عمل صرف اُس شخص کے اندر جاری ہوتا ہے جو تواضع کا مزاج رکھتا ہو۔ تواضع کا مزاج آدمی کے اندر قبولیت کا مزاج پیدا کرتا ہے۔ ایسا آدمی نفسیاتی پیچیدگی (complex) سے آزاد ہوگا اور جو آدمی نفسیاتی پیچیدگی سے آزاد ہو، وہی تزکیہ کے درجے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔ مسنون اذکار حدیث کی کتابوں میں ایسی روایتیں آئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اوقات میں کچھ کلمات ادا کرتے تھے، جن کو ذکر ودعا کے کلمات کہا جاتا ہے۔ یہ کلمات عام طور پر مسنون ذکر یا مسنون دعا کے نام سے مشہور ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ یہ مسنون اذکار تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور تزکیہ یہ ہے کہ آدمی ان اذکار کو یاد کرلے، اور مختلف موقع پر ان کو دہراتا رہے۔ مسنون اذکار کا یہ تصور ایک ناقص تصور ہے۔ مسنون اذکار دراصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader