مسنون اذکار
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
مسنون کیفیات ہیں، نہ کہ سادہ معنوں میں صرف مسنون الفاظ ۔ اس معاملے میں اصل حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اعلیٰ معرفت کی بنا پر ربانی کیفیات سے معمور رہتے تھے، آپ کی یہ داخلی حالت مختلف مواقع پر آپ کی زبان سے نکل پڑتی تھی۔ آج جو لوگ حدیث کی کتابوں کو پڑھتے ہیں، وہ صرف الفاظ نبوی سے واقف ہوتے ہیں، وہ کیفیات نبوی سے واقف نہیں ہو پاتے۔ اس بنا پر وہ الفاظ کو اصل سمجھ لیتے ہیں، کیوں کہ وہ کتاب میں درج نہیں۔ مسنون اذکار کا یہ تصور مسنون اذکار کی تصغیر ہے، وہ مسنون اذکار کا صحیح تعارف نہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے مسنون اذکار کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے شعور کو جگائے، وہ مسلسل تفکیری عمل کے ذریعے اپنے اندر ایسی شخصیت کی تعمیر کرے جور بانی کیفیات میں جینے والی ہو، یہ گویا کہ مسنون اذکار سے پہلے کی سنت ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مسنون اذکار سے پہلے کی سنت کو اپنے اندر زندہ کرے، اس کے بعد اس کی زبان سے ذکر و دعا کے جو کلمات نکلیں گے، وہی اس کے لیے مسنون اذکار ہوں گے۔ اس طرح کی ربانی شخصیت تیار کیے بغیر جو آدمی مسنون اذکار کو دہرائے، وہ صرف الفاظ کی تکرار ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں مسنون اذکار پر عمل ۔ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسنون اذکار ذکر کے مقدس الفاظ ہیں، ان الفاظ میں پراسرار طور پر کچھ خواص چھپے ہوئے ہیں، مگر یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسنون اذکار دراصل مسنون کیفیات کو بتانے والے الفاظ ہیں، نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader