Urdu book · تزکیہ نفس

مسنون اذکار

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ مجرد طور پر صرف مسنون الفاظ۔ تزکیہ اور دعا دعا کیا ہے، دعا اُس کیفیت کے لفظی اظہار کا نام ہے جو ایک طرف اپنی عبدیت اور دوسری طرف خدا کی ربوبیت کو دریافت کرنے کے بعد ایک انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ مسنون دعاؤں کا معاملہ بھی اس سے مختلف نہیں۔ مسنون دعا، معروف معنوں میں، مسنون الفاظ دعا کا نام نہیں۔ مسنون دعا اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اکتشافی دعا کا نام ہے۔ ایک ربانی دریافت جب الفاظ میں ڈھل جائے تو یہی وہ دعا ہے جس کو مسنون دعا یا اکتشافی دعا کہا جا سکتا ہے۔ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ: أنا عند ظنّ عبدی بی، فليظن بی خیر ما أحب۔ (ذخیرۃ الحفاظ لابن القیسرانی، 5/2793)۔ یعنی میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں، تو اس کو چاہیے کہ وہ میرے بارے میں اچھا گمان کرے۔ یہ گمان کیا ہے، یہ دراصل خدا کی صفات میں سے کسی ایک صفت کو دریافت کرنے کا نام ہے، جو آدمی کو یہ موقع دے کہ وہ خدا کے بارے میں اچھا گمان کرے، وہ اُس سے خیر طلب کرے۔۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: و آتاكم من كل ما سألتموه (14 34) یہ آیت کسی بندے کو دعا کا ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) دیتی ہے جس کے حوالے سے وہ خدا کی رحمت کو انووک (invoke) کر سکے۔ وہ یہ کہے کہ خدا یا، دنیا کی زندگی میں اپنی ضرورتوں سے واقف بھی نہ تھا کہ میں تجھ سے اُس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page