Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

کا سوال کروں۔ تو نے میری فطرت کے تقاضوں کو سوال کا درجہ دے کر میری تمام دنیوی ضرورتوں کا انتظام کر دیا۔ آخرت کے معاملے میں بار بار میں تجھ سے سوال کر رہا ہوں، اب تو میرے سوال کو لازم کا درجہ دے کر آخرت میں بھی مجھے میری تمام مطلوب چیزیں عطا کر دے۔ اس قسم کی ایک دعا ہمیشہ ایک نفسیاتی طوفان کے بعد کسی آدمی کی زبان سے نکلتی ہے۔ اسی نفسیاتی واقعے کا دوسرا نام تزکیہ ہے۔ تزکیہ اور دعا دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جہاں تزکیہ کا واقعہ ہوگا، وہاں دعا بھی لازماً ظاہر ہوگی، اور جب دعا کا ظہور ہو تو وہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ اس سے پہلے آدمی کے اندر تزکیہ کا واقعہ پیش آ چکا ہے۔ تزکیہ کے بغیر دعا نہیں، اور دعا کے بغیر تزکیہ نہیں۔ تزکیہ کا ظاہری فارم تزکیہ کا کوئی ظاہری فارم نہیں۔ اگر تزکیہ کا ظاہری فارم ہو تو اس کو پورا کر کے آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لے گا کہ میں نے اپنا تزکیہ کر لیا۔ اس طرح اس کے اندر قناعت (contentment) کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ حالاں کہ اس معاملے میں قناعت کا مزاج تزکیہ کے لیے ایک قاتل جذبہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر مسلسل طور پر عدم قناعت (discontent) کا احساس پایا جاتا ہو۔ عدم قناعت کا جذبہ تزکیہ کے عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کا باعث ہے، جب کہ قناعت کی نفسیات میں اس قسم کے تسلسل کا محرک ہی ختم ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page