Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

ارتقا(intellectual development) بھی کہا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے امکانات(potentials) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ انسانی شخصیت کے ان امکانات کو واقعہ(actual) بنانے کا نام تزکیہ ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ تزکیہ کا مطلب ہے— ربانی بنیادوں پر انسانی شخصیت کی تعمیر۔ آدمی جب ایمان لاتا ہے تو وہ دراصل تزکیہ کے سفر کا آغاز کرتا ہے، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے وہ ایک مُرّکّی انسان، یا ذہنی اور روحانی اعتبار سے ایک ارتقا یافتہ شخصیت (developed personality)بن جاتا ہے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو آخرت کی ابدی جنت(eternal paradise) میں داخلہ ملے گا۔ تزکیہ کسی پراسرار چیز کا نام نہیں۔ تزکیہ کا ذریعہ مراقبہ(meditation) نہیں ہے، بلکہ تزکیہ کا ذریعہ غور وفکر(contemplation) ہے۔ اپنی ذات اور کائنات کے بارے میں غور وفکر کرنا اور اُن سے معرفت کا ذہنی یا فکری رزق حاصل کرنا، یہی وہ عمل (process) ہے جس سے آدمی کے اندر مرّکّی شخصیت بنتی ہے۔ تزکیہ ایک معلوم حقیقت ہے، نہ کہ کوئی مجہول حقیقت۔ یہ تزکیہ انسان کی اپنی کوشش سے حاصل ہوتا ہے، کسی مفروضہ بزرگ کے پُراسرار فیض سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ تزکیہ کی اہمیت ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: إذا دخل أهل الجنة الجنة، وأهل النار النار، يُجاء بالموت يوم القيامة

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page