تزکیہ نفس
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
تزکیہ کا گہرا تعلق عبادات کے مقرر نظام سے ہے۔ تزکیہ اور اسلامی عبادات دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں ۔ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا تزکیہ مکمل ہو چکا ہے اور اب مجھے عبادات کی ضرورت نہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ عبادات کی ظاہری ادائیگی سے اپنے آپ تزکیہ کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ ایسا سمجھنا ایک غیر فطری بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ عبادات روح تزکیہ کا خارجی ظہور ہیں ، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، تزکیہ کا وسیلہ نہیں۔ اگر کسی شخص کے اندر تزکیہ کی روح حقیقی طور پر پیدا ہو جائے تو لازمی طور پر ایسا ہوگا کہ وہ خدا کا عبادت گزار بن جائے گا۔ عبادت گزاری کو تزکیہ سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے سارا زور روح تزکیہ کے تحقق پر دینا چاہیے، نہ کہ صرف عبادات کے ظاہری فارم پر۔ یہ درست ہے کہ عبادات کے بغیر تزکیہ کا دعویٰ صرف ایک جھوٹا دعویٰ ہے ، مگر یہ بھی درست ہے کہ عبادات کا ظاہری فارم آٹومیٹک طور پر تزکیہ کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔ ضمیر رہبر تزکیہ انسان کے اندر فطری طور پر ایک فیکلٹی (faculty) ہے جس کو ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔ یہ ضمیر ایک خدائی معلم ہے۔ وہ انسان کے لیے رہبر تزکیہ (tazkia guide) کا کام کرتا ہے۔ ضمیر ہر موقع پر خاموش زبان میں انسان کو بتاتا ہے ــــ یہ کرو اور وہ نہ کرو، یہ تزکیہ کے موافق روش ہے اور وہ تزکیہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader