تزکیہ نفس
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
کے خلاف روش ہے۔ یہ پاکیزہ شخصیت بنانے والی روش ہے اور وہ غیر پاکیزہ شخصیت بنانے والی روش، وغیرہ۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ بیشتر لوگوں کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ضمیر ان کے لیے رہبر تزکیہ کا کام نہیں کرتا۔ اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر آدمی کے اندر ضمیر کے ساتھ ایک اور برعکس فیکلٹی موجود ہے۔ یہ ایگو (ego) ہے۔ آدمی اکثر نفس اور شیطان کے زیر اثر آ جاتا ہے۔ وہ ضمیر کو اپنا کام کرنے نہیں دیتا۔ ضمیر کی خاموش آواز ہر موقع پر ابھرتی ہے، لیکن ایگو (ego) اس آواز کو دبا کر اس کو بے اثر بنا دیتا ہے۔ طالب تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس حقیقت سے باخبر ہو۔ وہ اپنی قوت فکر کو بیدار کرے۔ وہ ہر موقع پر اپنے ایگو کو زیرو کرتا رہے۔ ایگو کو زیر و کرتے ہی یہ ہوگا کہ ضمیر اپنا فطری رول ادا کرنے لگے گا اور تزکیہ کے راستے پر آدمی کا سفر بھٹکے بغیر جاری رہے گا۔ ایگو کو زیرو کرنے کا یہ کام اس معاملے میں فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن یہ کام کوئی دوسرا شخص انجام نہیں دے سکتا۔ ہر آدمی کو خود یہ کام کرنا ہے کہ جیسے ہی اس کا ایگو جاگے، وہ فوراً متنبہ ہو جائے اور اپنی قوتِ ارادی (will power) کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ایگو کو زیرو کر دے۔ تزکیہ کا طریقہ کچھ لوگوں نے تزکیہ کے مختلف طریقے بیان کرنے کی کوشش کی۔ اس ذیل میں انھوں نے تزکیہ کے طریقوں کی ایک فہرست بھی تیار کی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader