Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ کا طریقہ

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

تزکیہ کے طریقوں کی کوئی فہرست نہیں۔ آپ خواہ کتنی ہی لمبی فہرست بنالیں، مگر کوئی بھی فہرست تزکیہ کے طریقوں کی جامع نہیں بن سکتی، کوئی بھی فہرست تزکیہ کے طریقوں کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ طویل ترین فہرست کے بعد بھی کچھ ایسے اجزا باقی رہیں گے جو تجربہ کے بعد یہ ثابت کریں گے کہ یہ فہرست ایک ناقص فہرست تھی۔ اصل یہ ہے کہ تزکیہ کا تعلق کسی فہرست سے نہیں ہے، بلکہ انسان کے اپنے ارادے سے ہے۔ اگر انسان فی الواقع تزکیہ کے معاملے میں سنجیدہ ہو اور وہ دیانت دارانہ طور پر اپنا تزکیہ کرنا چاہتا ہو تو وہ ضرور اپنا تزکیہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، لیکن اگر آدمی اس معاملے میں پوری طرح سنجیدہ نہ ہو اور وہ اپنا تزکیہ کرنے کے لیے حریص نہ ہو تو کوئی بھی تحریر یا تقریر اس کا تزکیہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔ انسان کی ایک انوکھی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی ہر غلطی کی توجیہہ (justification) تلاش کرلیتا ہے۔ وہ اپنی ہر غلطی کو درست ظاہر کرنے کے لیے خوب صورت الفاظ پال لیتا ہے۔ ایسی حالت میں کوئی بھی مصلح یا مربی اس کا تزکیہ نہیں کرسکتا۔ تزکیہ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود اپنے بارے میں ایک باشعور فیصلہ کرے ۔ اس کا یہ فیصلہ اتنا زیادہ محکم ہو کہ وہ ہر حال میں اس پر قائم رہے، اس معاملے میں کسی بھی عذر (excuse) کو وہ اپنے لیے عذر نہ بنائے۔ تزکیہ کے معاملے میں اصل چیز تزکیہ کا ارادہ ہے۔ یہ ارادہ اتنا زیادہ قوی ہونا چاہیے کہ کوئی بھی چیز آدمی کو اس سے ہٹا نہ سکے۔ کوئی بھی اندیشہ اس کے ارادے کو کمزور نہ کر سکے۔ اس معاملے میں وہ کسی بھی دباؤ کو قبول کرنے پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page