Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ کی اہمیت

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

کأنہ کبش املح، فیوقف بین الجنة والنار، فیقال: یا أہل الجنة، هل تعرفون هذا، فیشرئبون وینظرون ویقولون نعم، هذا الموت۔ قال: ثم یقال: یا أہل النار، هل تعرفون هذا، فیشرئبون وینظرون ویقولون نعم، هذا الموت۔ قال: فیؤمر بہ فیذبح، ثم یقال: یا أهْلَ الجنة، خلود فلا موت، ويا أهل النار خلود فلا موت ( صحیح مسلم، رقم الحدیث: 2849) یعنی قیامت میں جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو وہاں موت کو لایا جائے گا۔ وہ ایک سفید مینڈھے کی صورت میں ہوگی۔ اس کو جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اے جنت والو، کیا تم لوگ اس کو پہچانتے ہو، پھر وہ اس کو گردن اٹھا کر دیکھیں گے اور کہیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد جہنم والوں سے کہا جائے گا کہ اے جہنم والو، کیا تم لوگ اس کو پہچانتے ہو، پھر وہ سر اٹھا کر اس کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ ہاں، یہ موت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد حکم دیا جائے گا اور موت کو ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا کہ اے جنت والو، اب تمھارے لیے ہمیشہگی ہے، اب تمھارے لیے موت نہیں۔ اور اے جہنم والو، اب تمھارے لیے ہمیشہگی ہے، اب تمھارے لیے موت نہیں۔ تزکیہ کیا ہے، تزکیہ کا مطلب ہے اپنے آپ کو وہ مزکی شخصیت (purified personality) بنانا جو جنت کے اعلیٰ ماحول میں بسائے جانے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page