Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

مکمل طور پر چھوڑ دے۔ مثلاً زیادہ بولنا اور کم سوچنا، خاندانی تقاضوں میں مشغول رہنا، کھانے اور کپڑے کا شوقین ہونا، تفریحی مجلسوں میں بیٹھنا، دوسروں کی کمیوں کا چرچا کرنا، شاپنگ اور آؤٹنگ، کفایت شعاری کے بجائے فضول خرچی، سطحی اور نمائشى ذوق، تنقید کو برا ماننا اور تعریف پر خوش ہونا، دنیوی چیزوں کا حریص ہونا، ضرورت پر قناعت نہ کرنا، سادگی (simplicity) کے بجائے تکلف کو پسند کرنا، وغیرہ۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور تزکیہ کو پانے کی بھی ایک قیمت ہے، اور وہ قیمت ہے ـــــــــ خلاف تزکیہ باتوں کو چھوڑنا۔ جو آدمی تزکیہ کی باتیں کرے، لیکن وہ خلاف تزکیہ باتوں کو چھوڑنے پر راضی نہ ہو، ایسا آدمی بلاشبہ ایک غیر سنجیدہ انسان ہے، اور غیر سنجیدہ مزاج کے ساتھ کبھی تزکیہ جمع نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی تزکیہ کی طلب میں سنجیدہ ہو، وہ خود ہی یہ جان لے گا کہ کیا چیزیں تزکیہ کے موافق ہیں اور کیا چیزیں تزکیہ کے خلاف۔ اس کی سنجیدگی لازمی طور پر اس کو مجبور کرے گی کہ وہ موافق تزکیہ باتوں کو اپنائے اور خلاف تزکیہ باتوں کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ سنجیدگی اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی ضرور تزکیہ کے درجے تک پہنچ جائے، وہ ہرگز تزکیہ سے محروم نہ رہے۔ تزکیہ ایک نفسیاتی عمل تزکیہ کا حصول کسی قسم کی لسانی تکرار یا کسی قسم کی جسمانی ورزش کے ذریعہ ممکن نہیں۔ تزکیہ تمام تر ایک نفسیاتی عمل ہے اور نفسیات کی سطح پر ہی اس کو حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page