Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ ایک نفسیاتی عمل

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

کیا جاسکتا ہے۔ نفسیاتی عمل سے مراد ذہنی عمل ہے۔ انسان کا ذہن ہر قسم کی سوچ کا مرکز ہے۔ یہ دراصل ذہن ہے جو کسی انسان کی شخصیت کی تشکیل کرتا ہے۔ غیر مزکی شخصیت کو بھی اس کا ذہن بناتا ہے اور مزکی شخصیت کو جو چیز بناتی ہے، وہ بھی اس کا ذہن ہے۔ تزکیہ کے لیے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ ذہنی ارتقا ہے، یعنی شعور کو اس طرح ترقی دینا کہ وہ چیزوں کو سارٹ آؤٹ (sortout) کر سکے، وہ منفی احساس کو مثبت احساس میں کنورٹ کر سکے، وہ چیزوں میں خالق کے جلوے کا مشاہدہ کر سکے، وہ مادی واقعات میں روحانی پہلو کو دریافت کر سکے، وہ خارجی اثرات سے محفوظ رہ کر سوچ سکے، وہ شیطان کی تزئین کو پہچان کر اُسے رد کر سکے، وہ نفس کی ترغیبات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے، اس کو مستقبل بینی کی نظر حاصل ہو جائے، وہ بے نتیجہ کام سے اپنے آپ کو دور رکھے، وہ اپنے حقیقی خیر خواہ کو پہچانسے والا ہو، وہ نصیحت کو قبول کرے، خواہ وہ اس کے مزاج کے خلاف ہو، وہ اپنے خلاف سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ مادیات سے گزر کر روحانیات کو اپنا نشانہ بنائے، اس کی سوچ آخرت رُخی سوچ بن جائے، وغیرہ۔ یہ تمام کام نفسیات کی سطح پر انجام پاتے ہیں، وہ انسان کی گہری سوچ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس آدمی کے اندر گہری سوچ نہ ہو، وہ کبھی تزکیہ کے اعلیٰ درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ جس آدمی کے اندر گہری سوچ ہو، اُسی کے اندر تزکیہ کا عمل جاری ہوگا۔ تزکیہ دراصل نفسیاتی تزکیہ کا دوسرا نام ہے۔ تزکیہ اولاً نفسیات کی سطح پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ ممکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page