تزکیہ نفس
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا ہے کہ انسان کے پورے وجود کی سطح پر تزکیہ کا اظہار ہو۔ مثبت نفسیات کی اہمیت چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا اور خود شام واپس چلے گئے۔ بعد کو اسماعیل بڑے ہوئے تو انھوں نے قبیلہ جرہم کی ایک خاتون سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ وہاں آئے۔ اُس وقت ان کی ملاقات اسماعیل کی بیوی سے ہوئی۔ انھوں نے سخت حالات کی شکایت کی۔ حضرت ابراہیم اُن سے یہ کہہ کر چلے گئے کہ جب اسماعیل واپس آئیں تو اُن کو میرا یہ پیغام دینا: غیر عتبة بابک (اپنے گھر کی چوکھٹ کو بدل دو)۔ اس کے بعد اسماعیل نے اپنی بیوی کو طلاق دے دیا اور ایک دوسری خاتون سے نکاح کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابراہیم دوبارہ پھر وہاں آئے۔ دوسری خاتون سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے کوئی شکایت نہیں کی، بلکہ حالات پر شکر کا اظہار کیا۔ یہ سن کر حضرت ابراہیم نے کہا کہ اسماعیل آئیں تو اُن کو میرا یہ پیغام دینا: ثبت عتبة بابک (یعنی اپنے گھر کی چوکھٹ کو باقی رکھو)۔ صحيح البخاری، كتاب أحاديث الأنبياء حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو صحرا میں بسا دیا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ فطرت کے سادہ ماحول میں ایک نئی نسل پیدا ہو جو توحید کے مشن کو لے کر اٹھے اور اس کو دنیا میں پھیلائے۔ حضرت ابراہیم کے مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اعلیٰ کام کے لیے جو افراد مطلوب ہیں، اُن کے اندر سب سے زیادہ یہ صفت ہونا چاہیے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader