Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ مثبت نفسیات میں جینے والے ہوں، وہ شکایات کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تزکیہ کے عمل میں سب سے زیادہ اہمیت کس بات کی ہے، وہ یہ کہ آدمی مکمل طور پر اپنے آپ کو بے شکایت بنالے، شکایت کے اسباب ہوتے ہوئے وہ پوری طرح مثبت سوچ والا انسان بن جائے۔ منفی سوچ تزکیہ کی قاتل ہے، جب کہ مثبت سوچ تزکیہ کے لیے سب سے ضروری شرط کی حیثیت رکھتی ہے۔ منفی سوچ والا آدمی شیطان کا معمول (subject) بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ والا آدمی فرشتوں کی صحبت میں جینے لگتا ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تزکیہ کا حصول فرشتوں کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔ تزکیہ کی اصل محاسبہ حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا (مسند الفاروق 2/618) یعنی اپنا محاسبہ کرلو، اس سے پہلے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے۔ یہی محاسبہ تزکیہ کی اصل ہے۔ تزکیہ کسی تربیتی کیمپ کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تزکیہ درس و تدریس کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تزکیہ کسی قسم کے اعمال و اشغال کے ذریعے بھی نہیں ہوتا۔ تزکیہ کا واحد ذریعہ محاسبہ ہے، یعنی اپنا احتساب (introspection) کرنا، خود اپنا ننگراں بن جانا، اپنے بارے میں سوچ سوچ کر خود اپنی اصلاح کرنا۔ انسان واحد مخلوق ہے جو سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انسان کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ انسان تصوراتی فکر (conceptual thought) رکھنے والا حیوان ہے۔ آپ ایک لکڑی کو گڑھ سکتے ہیں، آپ لوہے کو مولڈ کر سکتے ہیں، لیکن انسان کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page