Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

کے قابل ہو ۔ قیامت میں یہ واقعہ پیش آئے گا کہ جب مزکی افراد جنت میں اور غیر مزکی افراد جہنم میں داخل کر دیئے جائیں گے تو اس کے بعد یہ اعلان کیا جائے گا کہ اب موت کا قانون ختم کر دیا گیا ہے ، اب دونوں گروہوں کو ابدی طور پر اپنی اپنی دنیا میں رہنا ہے ۔ یہ بڑا عجیب لمحہ ہوگا۔ جنت والے مسرور ہوں گے کہ انھیں ابدی طور پر خوشیوں کی دنیا حاصل ہو گئی۔ دوسری طرف ، جہنم والے ناقابلِ بیان حسرت میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ یہ سوچ ان کے لیے ایک دائمی عذاب بن جائے گی کہ اپنا تزکیہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ کتنی بڑی محرومی میں مبتلا ہو گئے ۔ یہ احساس تزکیہ کے عمل کے لیے بلاشبہ ایک طاقت و محرک ہے۔ اُس وقت یہ آخری امید بھی ان کا ساتھ چھوڑ دے گی کہ شاید کبھی ہماری موت آجائے اور وہ ہمیں جہنم کے عذاب سے نجات دے دے ۔ یہ اہل جنت کے لیے ابدی فرحت کا لمحہ ہوگا، اور اہل جہنم کے لیے ابدی حسرت کا لمحہ ۔ جنت مز کی شخصیت کے لیے قرآن کی سورہ طہٰ میں جنت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ : ذلك جزاء من تزکیٰ (( 76 : 20 یعنی جنت اُس شخص کے لیے ہے جو اپنا تزکیہ کرے : Paradise is for one who purifies himself. قرآن کی اس آیت کے مطابق ، جنت صرف اُس شخص کے لیے ہے جو موجودہ دنیا میں اپنا تزکیہ کرے اور ایک مزکی شخصیت کے ساتھ آخرت کی دنیا میں پہنچے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page