Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے گویا کہ تزکیہ کی معراج ہے۔ تزکیہ اور موت کی یاد تزکیہ کے عمل کے لیے موت کی یاد بہت طاقت ور ذریعہ ہے۔ موت کی یاد تزکیہ کو فی الفور کرنے کے ایک کام کی حیثیت دے دیتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کے اندر اس پہلو سے ایک سینس آف ارجنسی (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ موت آدمی کو یاد دلاتی ہے کہ تزکیہ کے عمل میں تاخیر کا تم تحمل نہیں کر سکتے، تزکیہ کا کام آج کر ڈالو، کیوں کہ کل کے بارے میں نہیں معلوم کہ وہ تمھارے لیے موت کا دن ہوگا یا زندگی کا دن۔ موت کا تصور آدمی کو یاد دلاتا ہے کہ تم پر کسی بھی لمحہ وہ وقت آنے والا ہے جب کہ تم مرجاؤ گے ۔ اس کے بعد تم کو اُس سنگین صورتِ حال کا سامنا پیش آنے والا ہے جسے کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (6: 83) یعنی مالک کائنات کے سامنے انسان کا کھڑا کیا جانا۔ یہ وہ دن ہوگا جب کہ فرشتے انسان کو لے جا کر خدا کے سامنے پیش کر دیں گے۔ خدا جو ہر کھلے اور چھپے کو جانتا ہے، وہ انسان سے اُس کے قول و عمل کا حساب لے گا۔ ایک حدیث کے مطابق، انسان کے قدم اُس وقت تک اللہ کے سامنے سے نہیں ہٹیں گے جب تک وہ اللہ کے سوالات کا جواب نہ دے دے (لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسأل عن أربع)۔ موت کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کے اس نازک ترین لمحہ کو یاد کرے ۔ وہ اُس آنے والے وقت کے بارے میں سوچتا رہے جو بہر حال اُس پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page