Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 59

By Maulana Wahiduddin Khan

آۓ گا ۔ اُس دن اُس کے ابدی مستقبل (eternal future) کا فیصلہ کیا جاۓ گا۔ یہ سوچ بلا شبہہ ایک ایسی سوچ ہے جو آدمی کے اندر زلزلہ پیدا کر دے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص اس طرح موت کے بارے میں سوچے ، وہ اپنے تزکیہ کے بارے میں بے حد فکر مند ہو جاۓ گا۔ وہ آخری حد تک یہ کوشش کرے گا کہ وہ ہر پہلو سے اپنا تزکیہ کر ڈالے، اس سے پہلے کہ اُس پر موت آۓ اور اس کے لیے اپنی اصلاح کا وقت باقی نہ رہے۔ تزکیہ کا مقصد قرآن کی سورہ الزمر میں اہل جنت کے معاملہ کو اس طرح بتایا گیا ہے : ’’ اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ، وہ گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے ، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھول دئے جائیں گے اور جنت کے محافظ اُن سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر، خوش حال رہو، پس تم جنت میں داخل ہو جاؤ ہمیشہ کے لیے۔ اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اُس نے ہم کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں، مقام کریں۔ پس کیا خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا۔ اور تم فرشتوں کو دیکھو گے کہ وہ عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوں گے۔ اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جاۓ گا اور کہا جاۓ گا کہ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، عالم کا خداونڈ‘‘۔ (73-75: 39) الحمد للہ رب العالمین کی آیت سورہ الفاتحہ میں موجود دنیا کی نسبت سے آئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page