Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ نفس

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ حقیقت قرآن کی مختلف آیتوں میں واضح طور پر بیان کی گئی ہے۔ جنت میں داخلے کا فیصلہ انفرادی صفت کی بنیاد پر کیا جائے گا، نہ کہ گروہی تعلق کی بنیاد پر۔ جنت اُس شخص کے لیے ہے جو اپنے آپ کو پاک کرے۔ پاک کرنا یہ ہے کہ آدمی غفلت کی زندگی کو ترک کرے اور شعور کی زندگی کو اپنائے، وہ اپنے آپ کو اُن چیزوں سے بچائے جو حق سے روکنے والی ہیں، مصلحت کی رکاوٹ سامنے آئے تو وہ اُس کو نظر انداز کردے، نفس کی خواہش ابھرے تو وہ اس کو کچل دے، ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو وہ اُس کو اپنے اندر ہی اندر دفن کردے، وغیرہ۔ تزکیہ کا مطلب ہے ۔ کسی چیز کو غیر موافق عناصر سے پاک کردینا، تاکہ وہ موافق فضا میں اپنے فطری کمال کو پہنچ سکے۔ پیغمبر کا ایک اہم کام تزکیہ ہے۔ پیغمبر کی آخری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ایسے انسان تیار ہوں جن کے سینے اللہ کی محبت کے سوا ہر محبت سے خالی ہوں، ایسی روحیں وجود میں آئیں جو نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوں، ایسے افراد پیدا ہوں جو کائنات سے وہ ربانی رزق پاسکیں جو اللہ نے اپنے مومن بندوں کے لیے رکھ دیا ہے۔ جنت کا معاملہ تزکیہ سے جڑا ہوا ہے۔ تزکیہ ہی جنت میں داخلے کی واحد شرط ہے۔ تزکیہ کے بغیر ہرگز کسی شخص کو جنت میں داخلہ ملنے والا نہیں۔ حدیث تزکیہ کا ذریعہ ایک عالم نے کہا ہے: مَن کان فی بیتہ مجموعة من الأحاديث، فكأنما فیه نبي يتکلم (جس آدمی کے گھر میں حدیث رسول کا ایک مجموعہ ہو، گویا کہ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page