Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ کا مقصد

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ سورۃ الزمر کے مذکورہ اقتباس میں یہ آیت دوبارہ آخرت کی دنیا کے لیے آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمدِ خداوندی ہے۔ یہی چیز موجودہ دنیا میں بھی مطلوب ہے اور آخرت میں بھی یہی چیز مطلوب ہوگی۔ تزکیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ ایسی پاک روحیں (purified souls) وجود میں آئیں جو آخرت میں مبنی بر حمد نظامِ حیات کا حصہ بن سکیں۔ موجودہ دنیا میں انسان کا ایک کام یہ تھا کہ وہ ایک تہذیب (civilization) کو وجود میں لائے۔ انسان نے بڑے پیمانے پر یہ کام انجام دیا، حجری دور (stone age) سے آغاز کر کے اُس نے اس کو الیکٹرانک دور (electronic age) تک پہنچا دیا۔ یہ کام فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے کے ذریعہ انجام پایا، لیکن عملاً یہ ہوا کہ انسان نے ایک صحیح کام میں غلط کام کو ملا دیا۔ فطرت کی طاقتوں پر قابو پانے کے بعد وہ سرکش بن گیا، اس نے استبدادی نظام (despotic system) قائم کیا، اس نے آزادی کے نام پر انارکی (anarchy) پھیلائی، اس نے فیشن کے نام پر عریانیت (nudity) کو رواج دیا، وغیرہ۔ اس لیے قیامت میں یہ ہوگا کہ صالح لوگوں کو منتخب کر کے ان کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ ربانی تہذیب کو زیادہ بہتر طور پر قائم کریں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: أن الأرض يرثها عبادي الصالحون (105 :22)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page