Urdu book · تزکیہ نفس

تزکیہ کا مقصد

Urdu book, p. 61

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی معرفت کا ایک سفر ہے۔ یہ سفر دنیا سے لے کر آخرت تک چلا جارہا ہے۔ دنیا میں معرفت کا سفر محدود طور پر انجام پاتا ہے، آخرت میں معرفت کا سفر لامحدود طور پر جاری رہے گا۔ اس سفر کو کامیابی کے ساتھ وہی شخص طے کر سکتا ہے جو اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے کلمات اتنے زیادہ ہیں کہ اگر دنیا کے تمام سمندروں کو اور ان کے برابر مزید سمندروں کو سیاہی (ink) بنا دیا جائے اور دنیا کے تمام درختوں کو قلم بنا دیا جائے اور پھر اللہ کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندروں کی سیاہی ختم ہو جائے گی، مگر اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے (27: 31)۔ یہ بات جو قرآن میں کہی گئی ہے، وہ خبر نہیں ہے بلکہ وہ انشاء ہے، یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے ان کلمات کو دریافت کریں اور اس طرح وہ اپنی معرفت کو مسلسل بڑھاتے رہیں۔ قرآن کی پہلی آیت یہ ہے : الحمد لله رب العالمين (1: 1) یہ آیت بھی خبر نہیں ہے، بلکہ وہ انشاء ہے۔ یہ آیت دریافت معرفت کے دنیوی آغاز کو بتاتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن میں آخرت کے حوالے سے یہی آیت اس طرح آئی ہے: وقيل الحمد للہ رب العالمين (39: 75)۔ یہ دوسری آیت دریافت معرفت کے اگلے مرحلے کو بتاتی ہے جو آخرت کے زیادہ بہتر ماحول میں ابدتک جاری رہے گا۔ ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ : إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری) اس حدیث میں جس دینی تائید کا ذکر ہے، اس کا سب سے بڑا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page