Urdu book · تزکیہ نفس

حدیث تزکیہ کا ذریعہ

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

گھر میں خود پیغمبر کلام کرتا ہوا موجود ہے)۔ مذکورہ عالم نے جو بات کہی، وہ صرف کلام رسول کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ وسیعی اعتبار سے وہ گویا صحبتِ رسول کے معنی میں بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اقوال حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں، وہ مجرد اقوال نہیں ہیں، بلکہ ہر قول کا ایک پس منظر (background) ہے، یعنی رسول اللہ کسی مقام پر تھے، وہاں ایک صورتِ حال پیدا ہوئی، اس صورتِ حال کے تقاضے کے طور پر آپ نے لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے کلام کیا۔ اس طرح آپ کا ہر قول کسی نہ کسی پس منظر سے جڑا ہوا ہے۔ آپ کا ہر قول کسی نہ کسی صورتِ حال کو بتاتا ہے۔ اگر آدمی اپنے شعورِ حدیث کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ حدیث کے ساتھ اس کے بیک گراؤنڈ کو اپنے تصور میں لا سکے، تو یہ واقعہ اس کے لیے گویا صحبتِ رسول میں پہنچنے کے ہم معنی بن جائے گا۔ وہ محسوس کرے گا کہ میں نہ صرف کلامِ رسول کو کتاب میں پڑھ رہا ہوں، بلکہ کلام کے بین السطور (between the lines) میں اس کے بیک گراؤنڈ کو بھی اپنے ذہن میں تازہ کر رہا ہوں۔ یہ احساس اگر آدمی کے اندر شدت کے ساتھ ابھر آئے تو مطالعۂ حدیث اس کے لیے صحبتِ رسول میں بیٹھنے کے مانند ہو جائے گا۔ اس طرح حدیث کے بارے میں اس کا تاثر ہزار گنا زیادہ بڑھ جائے گا۔ اس پہلو سے غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ حدیث کو پڑھنے والا صرف حدیث کو پڑھنے والا نہیں ہے، بلکہ وہ گویا صحابہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page