حدیث تزکیہ کا ذریعہ
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
صحبت میں بیٹھنے والا ہے۔ حدیث کے مطالعے کا یہ ایک تخلیقی (creative) اسلوب ہے، اور تخلیقی اسلوب میں حدیثِ رسول کا مطالعہ بلا شبہ تزکیہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ تزکیہ ایک مسلسل عمل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتی ہیں: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه (صحيح البخاری، کتاب الجنائز) یعنی رسول اللہ ﷺ ہر موقع (occasion) پر اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اِس روایت سے تزکیہ کا مسنون طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ معمولی لفظی فرق کے ساتھ، اِس روایت کا مطلب یہ ہے: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزكي نفسه على كل أحيانه (رسول اللہ ہر موقع پر اپنا تزکیہ کرتے تھے)۔ اِس سے معلوم ہوا کہ تزکیہ کسی وقتی تربیتی کورس کا نام نہیں، تزکیہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جب ایک مومن سچائی کو دریافت کرتا ہے، تو شعوری بیداری کی بنا پر اُس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ ہر واقعہ اور تجربہ اس کے لیے تزکیہ کا پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بن جاتا ہے۔ اِس طرح وہ ہر لمحہ اور ہر صبح و شام تزکیہ کی خوراک حاصل کرتا رہتا ہے۔ تزکیہ کا یہ عمل تادم مرگ جاری رہتا ہے۔ جس طرح جسمانی توانائی مسلسل تغذیہ کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے، اسی طرح تزکیہ ایک مسلسل عمل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader