علماء اور دورِ جدید
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
اورنگ زیب کی پیدائش سے بہت پہلے دوسری صدی عیسوی کے آخر میں چین میں پرنٹنگ کا ابتدائی طریقہ دریافت ہو چکا تھا۔ اس میں ترقی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ ۱۶۲۰ء میں ایمسٹرڈیم میں مشہور ڈچ پریس بنا لیا گیا۔ پریس اولاً لکڑی کے ہوا کرتے تھے۔ پھر لکڑی اور لوہے کے تلے جلسے بنے۔ یہاں تک کہ ۱۷۹۵ء میں انگلینڈ میں مٹل پریس تیار کیا گیا جو مکمل طور پر لوہے کا بنا ہوا تھا (EB - 14/1054) اورنگ زیب کا کمال یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ خود اپنے ہاتھ سے کتابت کر کے قرآن تیار کرتا تھا۔ مگر اورنگ زیب کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس سے پہلے ۱۴۵۵ء میں گوٹن برگ (Gutenberg) نے بائبل کا پہلا نسخہ پریس میں چھاپ کر عیسائیت کے مشن کو دستکاری کے دور سے نکال کر مشینی دور میں داخل کر دیا ہے۔ اورنگ زیب اگر اس واقعہ کو جانتا تو اس کو معلوم ہوتا کہ قرآن کو ہاتھ سے لکھنے کے بجائے اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ملک میں پرنٹنگ پریس کی صنعت قائم کرے ۔ انگلینڈ کی کیمبرج یونی ورسٹی ۱۵۰۱ء میں قائم ہوئی۔ پریس یونی ورسٹی اور آکسفورڈ یونی ورسٹی اس سے بھی پہلے بارھویں صدی عیسوی میں قائم ہو چکی تھی۔ اورنگ زیب کا زمانہ سترھویں صدی کا زمانہ ہے۔ اس کے لیے کرنے کا زیادہ اہم کام یہ تھا کہ وہ ہندوستان میں ہر قسم کے علوم کی ایک وسیع یونی ورسٹی بنائے۔ اسی طرح اس کو یہ کرنا تھا کہ وہ وقت کے موضوعات پر ریسرچ کے ادارے کھولے۔ وہ دہلی میں نیابت الحکمت کھول کر یورپ کے علوم کے ترجمے کرائے۔ وہ علماء کی ایک اکیڈمی بنائے جو وقت کے علوم کو حاصل کرے اور اس پر ریسرچ کرے۔ مگر وہ اس قسم کا کوئی بھی کام نہ کر سکا ۔ اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ وہ تقسیم کار پر راضی نہیں ہوا۔ انسانیت نئے عہد میں یہ کوئی سادہ سی بات نہیں، بلکہ بہت زیادہ اہم بات ہے ۔ اس کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے اس کو ہمیں وسیع تر دائرہ میں دیکھنا چاہیے ۔ قدیم مشرکانہ دور میں انسان مظاہر فطرت کی پرستش کرتا تھا۔ یہ چیز سائنس (علوم فطرت) کے ظہور میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ علوم فطرت کے ظہور کے لیے فطرت کی تحقیق ضروری تھی۔ اور فطرت چونکہ انسان کے لیے معبود کا درجہ رکھتی تھی اس لیے انسان فطرت کو پرستش کا موضوع بنائے ہوئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader