علماء اور دورِ جدید
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
نئی تاریخ بنانے کی کوشش کریں جس کے عین سرے پر وہ کھڑے ہوئے ہیں۔ نو آبادیاتی دور کے علما ر علما ر کے عمل کا تیسرا دور وہ ہے جو، ہماری تقسیم کے مطابق ، شاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۷۶۱۔ ۱۸۲۲) سے شروع ہوتا ہے ۔ اور رنگ زیب سے لے کر سید احمد بریلوی تک مسلم رہنماؤں کے ذہن پر مرہٹہ اور جاٹ اور سکھ کا مسئلہ چھایا رہا ۔ وہ ان داخلی طاقتوں کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جہاد میں مشغول رہے۔ بظاہر انہیں اس کا کوئی شعور نہ تھا کہ اصل خطرہ باہر کی نو آبادیاتی قوموں سے ہے جو جدید قوتوں سے مسلح ہو کر نکلی ہیں اور ہندوستان سمیت ساری مسلم دنیا عملاً جن کی زد میں آ چکی ہے ۔ یہ مغربی طاقتیں سواحل کے راستہ سے داخل ہو کر ہندوستان میں اپنا نفوذ بڑھاتی رہیں۔ یہاں تک کہ ۱۸۰۳ میں دہلی کا برائے نام بادشاہ براہ راست برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کی سرپرستی protection میں آگیا ۔ (9/936) جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اس وقت مسلم علما ر کو اس کی خبر ہوئی ۔ اس کے بعد ۱۸۰۶ میں شاہ عبدالعزیز دہلوی نے یہ فتویٰ صادر کیا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ فرنگی جو دولت کے مالک ہیں، انھوں نے دہلی اور کابل کے درمیان فساد برپا کر دیا ہے : و إنّى أرى الا فرنج اصحاب ثروة لقد افسدوا ما بين دهلی و کابل اس کے بعد علما ر کا سیاسی ٹکراؤ انگریزوں سے شروع ہو گیا ۔ افریقہ میں وہاں کے علما ر اور مصلحین کا ٹکراؤ فرانسیسیوں کیساتھ ہوا ۔ اگر اس ٹکراؤ کے لیے اول دن سے ہی یہ مقدر تھا کہ وہ ناکام ہو کیوں کہ یہ علما ر اس مسئلہ کو محض اہل فساد کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھ رہے تھے ۔ حالانکہ باعتبار واقعہ وہ اس بات کا نتیجہ تھا کہ اہل مغرب جدید علمی اور عملی قوتوں کے مالک ہو گئے ہیں اور اسی بنا پر انھوں نے اہل مشرق کے اوپر فیصلہ کن فوقیت حاصل کر لی ہے ۔ مثلاً ۱۸۵۳ میں برٹش انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں ریلوے سے لائن بچھانا شروع کر دیا تھا ۔ مگر ۱۸۵۷ میں جہاد آزادی کے لیے اٹھنے والے علما ر کو اس زمانی تبدیلی کی خبر نہ ہو سکی ۔ یہ ٹکراؤ عملی اور اصولی دونوں پہلوؤں سے نادرست تھا۔ عملی اعتبار سے وہ اس لیے درست نہ تھا کہ یہ لوگ ایک ایسی جنگ لڑنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے جو اہل اسلام کی یک طرفہ ہلاکت کے سواکسی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader