Urdu book · علماء اور دورِ جدید

نو آبادیاتی دور کے علما

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

اور انجام تک پہنچنے والی نہ تھی۔ کیونکہ علماء کے پاس صرف روایتی ہتھیار تھے۔ اور دوسری طرف اہل مغرب سائنٹفک ہتھیاروں سے مسلح تھے۔ گویا اب دونوں فریقوں کے درمیان ماضی کی طرح صرف کیمیاقی فرق نہ تھا، بلکہ ان کے درمیان کیفیاتی فرق پیدا ہو چکا تھا۔ اور جہاں اس قسم کا فرق پایا جائے وہاں جنگی ٹکراؤ چھڑنا نہ اسلام کے مطابق ہے اور نہ عقل کے مطابق۔ اصولی اعتبار سے، علماء کا یہ کام ہی نہیں کہ وہ سیاسی امور میں عملی طور پر اپنے آپ کو الجھائیں۔ ان کا عملی سیاسیات میں الجھنا صرف اس قیمت پر ہوگا کہ دوسرے زیادہ بنیادی کام ہونے سے رہ جائیں۔ علماء کو ہمیشہ تقسیم کار کے اصول پر قائم رہنا چاہیے۔ یعنی وہ سیاسی نزاعات کو اہل سیاست کے حوالے کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہمہ تن علمی، دعوتی، اصلاحی اور تعمیری کاموں میں لگادیں۔ علماء اسی کے اہل ہیں، اور ان کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ دور اول میں خلافت راشدہ کے آخری زمانہ سے لے کر بنو امیہ اور بنو عباس کے آخر زمانہ تک تقریباً چھ سو سال کی مدت ہے۔ اس پوری مدت میں مختلف صورتوں میں داخلی سیاسی لڑائیاں جاری رہیں مگر یہی وہ مدت ہے جب کہ ان تمام علوم کی تدوین عمل میں آئی جن کو اسلامی علوم کہا جاتا ہے۔ سیاسی انتشار کے با وجود یہ تعمیری کام کیوں کر ممکن ہوا۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ علماء اور اہل علم کا طبقہ ہمیشہ عملی سیاست سے الگ رہ کر علمی کاموں میں مصروف رہا۔ اس حد بندی نے اہل علم کو یہ موقع دیا کہ سیاسی بگاڑ کے با وجود وہ اپنی قوتوں کو بچا کر یکسوئی کے ساتھ علوم کی ترتیب و تدوین کا عظیم کام انجام دے سکیں۔ اسی طرح اسپین (اندلس) کی مسلم سلطنت کی مدت تقریباً آٹھ سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہاں بھی اس پوری مدت میں سیاسی ٹکراؤ اور سیاسی بغاو ت کے سلسلے جاری رہے۔ اس کے با وجود عین اسی دور میں مسلم علماء اور اہل علم نے جو علمی اور سائنسی خدمات انجام دیں وہ حیرت ناک حد تک عظیم ہیں۔ دوبارہ اس کی وجہ یہ تھی کہ علماء اور اہل علم نے اپنے آپ کو عملی سیاست کے ہنگاموں سے دور رکھا اور ہمہ تن علوم و فنون کی خدمت کرنے میں مشغول رہے۔ جدید نو آبادیاتی دور میں اگر چہ بیشتر علماء کا یہ حال رہا کہ وہ اپنے اصل کام (تعمیر شعور) کو چھوڑ کر بے فائدہ قسم کے سیاسی جہاد میں مشغول ہو گئے۔ تاہم اس دور میں چند علماء ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے اس حقیقت کو سمجھا کہ علماء کا کام لڑائی جھگڑوں میں اپنی قوت ضائع کرنا نہیں ہے۔ بلکہ سیاست سے الگ رہ کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page