Urdu book · علما اور دینی مدارس

میں پڑھ کر پڑھاؤں گا

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

میں پڑھ کر پڑھاؤں گا فادر ہنری ہراس (1956-1889) ایک اسپینی مسیحی تھے۔ وہ 34 سال کی عمر میں 18 نومبر 1922 کو بمبئی کے ساحل پر اترے۔ ہندوستان کی زمین نے ان کو متاثر کیا۔ ان کو محسوس ہوا کہ ان کے تبلیغی حوصلہ کے لیے اس ملک میں کام کا اچھا میدان ہے۔ انہوں نے طے کر لیا کہ وہ یہاں رہ کر اپنا تبلیغی کام انجام دیں گے۔ مگر ہندوستان ان کا وطن نہیں تھا۔ کام سے پہلے ضروری تھا کہ یہاں ان کے لیے قیام کی کوئی بنیاد ہو۔ یہاں اپنی جگہ بنا کر ہی وہ یہاں کی آبادی میں اپنے تبلیغی کام کو جاری رکھ سکتے تھے۔ انہوں نے طے کیا کہ ہندوستان میں بحیثیت معلم کے قیام کریں گے اور اس کے بعد کالج میں اور کالج کے باہر اپنے لیے کام کی تدبیر کریں گے۔ بمبئی کا ہراس انسٹیٹیوٹ ( Heras Institute) انھیں کی یادگار ہے۔ فادر ہراس (Fr. Henry Heras) چند دن بعد سینٹ زیوِیرس کالج بمبئی کے پرنسپل سے ملے وہ ایک تاریخ دان تھے۔ انہوں نے اپنے ملک سے تاریخ میں ڈگری لی تھی۔ پرنسپل نے ان کے کاغذات دیکھ کر پوچھا: ”آپ یہاں کون سی تاریخ پڑھانا پسند کریں گے“ فادر ہراس نے فوراً جواب دیا ”ہندوستانی تاریخ۔“ پرنسپل کا اگلا سوال تھا: ہندوستانی تاریخ میں آپ کا مطالعہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ”کچھ نہیں۔“ پھر آپ کیسے ہندوستانی تاریخ پڑھائیں گے،“ پرنسپل نے پوچھا۔ فادر ہراس کا جواب تھا: I shall study it. میں ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ کر کے اپنے آپ کو تیار کروں گا۔ پھر اس کو پڑھاؤں گا۔ فادر ہراس جانتے تھے کہ معلمی کا کام وہ بطور پیشہ نہیں اختیار کر رہے ہیں کہ یورپ کی تاریخ یا جو مضمون بھی وہ چاہیں پڑھائیں اور مہینہ کے آخر میں تنخواہ لے کر وہ مطمئن ہو جائیں۔ ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page