علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 106
By Maulana Wahiduddin Khan
یے معلمی کا کام ایک خاص مقصد کی خاطر تھا۔ اور وہ یہ کہ وہ اپنے تبلیغی کام کے لیے مناسب بنیاد فراہم کریں اور اس مقصد کے اعتبار سے ان کے لیے ”ہندوستانی “ تاریخ سب سے زیادہ موزوں مضمون تھا۔ وہ ہندوستان میں تھے اس لیے ہندوستانی تاریخ کے معلم بن کر وہ زیادہ بہتر طور پر یہاں کے نوجوانوں میں اپنے دین کی تبلیغ کر سکتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوستان کی تاریخ سے نا آشنا ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے مضمون کے لیے ہندوستانی تاریخ کو پسند کیا۔ انہوں نے ہندوستانی تاریخ کے مطالعہ میں اتنی زیادہ محنت کی کہ وہ نہ صرف اس مضمون کے اچھے معلم بن گئے بلکہ ہندوستانی تاریخ میں سر جادو ناتھ سرکار اور ڈاکٹر سریندر ناتھ سین کے درجہ کے مورخ کی حیثیت حاصل کرلی۔ (الرسالہ ، مارچ 1984) ایک کردار ادا کرنے کے لیے 22 ملین ڈالر کے خرچ سے ”گاندھی“ کے نام پر ایک فلم بنی ہے جس میں مہاتما گاندھی کی زندگی کو دکھایا گیا ہے۔ اس فلم کے بنانے والے ایک انگریز سرچردن برو (Richard Attenborough, 1923-2014) ہیں۔ وہ بیس سال سے اس فلم کو بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر کامیابی نہیں ہو رہی تھی۔ کوئی مووی کمپنی اس میں سرمایہ لگانے کے لیے تیار نہیں ہوتی تھی، کیونکہ اس فلم کے متعلق ان کا عام خیال یہ تھا کہ وہ بالکل غیر نفع بخش (totally uncommercial) ہوگی۔ مگر بن کنگسلے (Ben Kingsley) نے اتنی کامیابی کے ساتھ گاندھی کا پارٹ ادا کیا کہ یہ فلم آج کامیاب ترین فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔ بن کنگسلے کے باپ ایک ہندوستانی گجراتی ڈاکٹر تھے۔ جنہوں نے ایک انگریز خاتون سے شادی کی ۔ ان کا ابتدائی نام کرشنا بھنچی تھا۔ بعد کو انہوں نے اپنا نام بن کنگسلے رکھ لیا۔ بن کنگسلے کو گاندھی سے جسمانی مشابہت کی بنا پر اس فلم میں ہیرو کا پارٹ ادا کرنے کے لیے چنا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے طویل مدت تک سخت محنت کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader