Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

بن کنگسلے شوٹنگ سے کافی پہلے ہندوستان آئے۔ انہوں نے اپنے سر کو منڈایا تا کہ ان کا سر گاندھی کی طرح گنجا معلوم ہو۔ وہ موٹے تھے چنانچہ انہوں نے مسلسل کم کھانا کھا کر اپنا وزن 20 کلو تک گھٹایا اور اپنے کو دبلا بنایا۔ سورج میں دیر دیر تک رہے تا کہ ان کا رنگ سانولا دکھائی دینے لگے۔ فلم کی کہانی کو پورا کا پورا یاد کر ڈالا۔ انہوں نے اپنے کمرہ کی دیواروں کو مہاتما گاندھی کی تصویروں سے بھر دیا۔ وہ مہاتما گاندھی کی پانچ گھنٹہ کی ڈاکومنٹری کو دیکھتے رہے۔ وہ گاندھی کی طرح پاؤں توڑ کر بیٹھنے پر قادر نہ تھے۔ چنانچہ انہوں نے روزانہ دو گھنٹے کی یوگا ورزش کر کے اپنے کو اس کا عادی بنایا کہ وہ پاؤں توڑ کر دیر دیر تک بیٹھیں۔ اسی کے ساتھ انہوں نے روزانہ دو گھنٹے چر خا چلایا تا کہ وہ شوٹنگ کے وقت بالکل مہاتما گاندھی کی طرح چر خا چلا سکیں ۔ (نیوز ویک 13 دسمبر 1982) بن کنگسلے کو ایک فلم میں خاص کردار ادا کرنا تھا۔ اس کے لیے انہوں نے اتنی تیاریاں کیں۔ طویل مدت تک سخت محنت کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ وہ یہ کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں۔ پھر جو لوگ اپنے کو خیر امت کہتے ہیں ان کو تو تاریخ انسانی میں اہم ترین کردار ادا کرنا ہے۔ کیا وہ کسی تیاری کے بغیر یہ مشکل رول ادا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ (الرسالہ، مئی 1983) عزم و استقلال کچھ مسلم نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ آپ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرو مگر جب مسلمانوں کو اسکول اور کالج میں داخلہ ہی نہ ملے تو پڑھیں گے کیوں کر۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل بے بنیاد عذر ہے۔ میرے بھائی عبدالمحیط خاں اور میرے بھتیجے شکیل احمد خاں کو بنارس ہندو یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ اور دونوں نے وہاں انجینئرنگ کی ڈگری امتیاز کے ساتھ حاصل کی۔ آپ اگر واقعی پڑھنا چاہیں تو کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page