علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر میں نے اپنی مثال دی۔ عربی مدرسہ میں عربی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں نے یہ چاہا کہ انگریزی زبان کی اعلیٰ تعلیم حاصل کروں۔ یہ غالباً 1944ء کی بات ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ (دہلی) میں عربی مدارس کے طلبہ کے داخلہ کی ایک صورت پہلے سے موجود ہے۔ اس کے مطابق میں نے جامعہ ملیہ میں داخلہ کا ارادہ کیا تھا۔ میرے چچازاد بھائی مولا نا اقبال احمد سہیل کا ڈاکٹر ذاکر حسین سے بہت قریبی تعلق تھا۔ میں سہیل صاحب کا ایک سفارشی خط لے کر اعظم گڑھ سے دلی آیا اور اوکھلا پہنچ کر ڈاکٹر ذاکر حسین سے ملاقات کی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی ملنساری اور خوش اخلاقی مشہور ہے۔ مگر کسی نامعلوم سبب کے تحت انہوں نے میرے ساتھ نہایت خشک رویہ اختیار کیا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کے لیے بھی نہیں کہا۔ میں سہیل صاحب کا خط دے کر ان کے پاس کھڑا ہو گیا۔ انہوں نے خط پڑھا اور اس کے بعد مزید کچھ پوچھے بغیر سادہ طور پر داخلہ لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں پرائیویٹ طور پر انگریزی پڑھوں گا۔ سالہا سال کی محنت کے بعد خدا کے فضل سے میں نے اتنی انگریزی سیکھ لی کہ ہر طرح کی انگریزی کتاب پڑھ سکتا ہوں۔ جامعہ کے انگریزی کے استاد انور علی خاں سوز مرحوم الرسالہ کے قاری تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ وحید الدین خان انگریزی عبارتوں کا جو ترجمہ کرتے ہیں اس سے اچھا ترجمہ ہم لوگ نہیں کر سکتے ہیں۔ (ڈائری ، 14 فروری 1990) ثبت اثر لینا مولانا سید نور ابراہیم (28 سال) پونے کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ 1987ء میں یہ واقعہ ہوا کہ انہوں نے ایک مطبوعہ اردو اعلان مسجد میں پڑھ کر سنایا۔ اس اعلان میں ”آرگنائزیشن‘‘ کا لفظ تھا وہ اس کا صحیح تلفظ نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader