علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد انہیں احساس ہوا کہ میں مدرسے سے عالم کی فراغت حاصل کرلی ، مگر انگریزی سے میں اتنا زیادہ بے بہرہ ہوں کہ انگریزی کا ایک لفظ جو اردو خط میں چھپا ہوا ہے اس کو میں پڑھ نہیں سکتا۔ یہ سوچ کر ان کے اندر غیرت آئی۔ بازار سے انہوں نے انگریزی کتابیں حاصل کیں اور بطور خود انگریزی پڑھنا شروع کیا۔ اب ذاتی کوشش سے انہوں نے اتنی انگریزی سیکھ لی ہے کہ وہ الرسالہ انگریزی کا پورا سمجھ کر پڑھ لیتے ہیں۔ وہ ہر مہینہ باقاعدہ طور پر انگریزی الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ (پونہ کا سفر، اسفار ہند) سچائی کی فتح تیرھویں صدی ہجری کے وسط کا واقعہ ہے جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ کاندھلہ (ضلع مظفر نگر، یوپی) کی جامع مسجد کی تعمیر شروع ہوئی تو مقامی ہندوؤں اور مسلمانوں میں نزاع شروع ہوگئی۔ یہ نزاع مسجد سے متصل ایک زمین کے بارے میں تھی۔ مسلمان اس زمین کو مسجد کی ملکیت قرار دے کر مسجد میں شامل کرنا چاہتے تھے اور ہندوؤں کا اصرار تھا کہ یہ قدیم مندر کا حصہ ہے۔ جھگڑا بڑھا تو معاملہ عدالت تک پہنچا اور کئی سال تک اس کا مقدمہ چلتا رہا۔ مجسٹریٹ انگریز تھا۔ جو شواہد اس کے سامنے پیش کیے گئے وہ اتنے قطعی نہ تھے کہ ان کی بنیاد پر وہ کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ کر سکے۔ بالآخر مجسٹریٹ نے ہندوؤں اور مسلمانوں سے الگ الگ گفتگو کی۔ اس نے مسلمانوں سے کہا کہ کیا تمھاری نظر میں کوئی ایسا ہندو ہے جو یہ گواہی دے کہ یہ زمین مسجد کی ملکیت ہے۔ اگر تم کسی ایسے ہندو کا نام بتاؤ تو میں اس کے بیان پر زمین کا فیصلہ کر دوں گا۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم کسی ہندو کا نام نہیں بتا سکتے، یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور ہم کو کسی ہندو سے یہ امید نہیں کہ ایسے مذہبی معاملہ میں وہ جانب داری کے بغیر بالکل سچ بات کہہ سکے اور یہ گواہی دے کہ زمین مسجد کی ملکیت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader