امام کبھی جھوٹ نہیں بولتا
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
امام کبھی جھوٹ نہیں بولتا میرٹھ میں ایک عربی مدرسہ امداد الاسلام کے نام سے ہے۔ اس کے شیخ الحدیث مولانا شکیل احمد قاسمی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنا قصہ بتایا جو جنوری 1965 میں پیش آیا۔ راشن کے دکاندار نے بتایا کہ آپ اپنے راشن کارڈ کو ویریفائی کرا لیں۔ ورنہ آئندہ اس پر راشن نہیں ملے گا۔ انہوں نے اپنا راشن کارڈ دفتر میں داخل کر دیا۔ انسپکٹر جانچ کے لیے مولانا کے گھر آیا تو اتفاق سے وہ موجود نہ تھے۔ چنانچہ ویریفیکیشن نہ ہو سکا۔ مولانا دوبارہ دفتر میں گئے۔ وہاں وہ ایک مسلمان انسپکٹر مسٹر خورشید احمد سے ملے۔ خورشید صاحب نے کہا کہ اب تو یہی کیا جا سکتا ہے کہ آپ دوبارہ درخواست دیدیں۔ انکوائری کے لیے تو آدمی جائے گا۔ ویریفیکیشن کے بغیر تو آپ کا کارڈ نہیں بن سکتا۔ مولانا واپس جا رہے تھے کہ راستے میں محمد معراج صاحب مل گئے جن کی مسجد میں مولانا جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں۔ معراج صاحب نے کہا کہ اس طرح تو آپ کا کارڈ بننے میں مہینوں لگ جائیں گے۔ وہ دوبارہ مولانا کو دفتر لے گئے، اور ہندو افسر (A.D.M) سے کہا۔ ہندو افسر نے قصہ سننے کے بعد فوراً مذکورہ خورشید صاحب کو بلایا اور کہا کہ ان کا کارڈ ابھی بنا کر دے دیجیے۔ کیوں کہ یہ امام ہیں، اور امام کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ ان کے پاس کہاں اتنا وقت ہے کہ وہ بار بار آئیں۔ مولانا شکیل صاحب کارڈ لے کر چلنے لگے تو مذکورہ ہندو افسر نے دوبارہ بلایا۔ اس نے پوچھا کہ آپ کو کتنا تیل ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ لیٹر۔ اس نے کہا کہ نہیں، آپ اپنے دکاندار سے کہیے کہ وہ آپ کو دس لیٹر تیل دے۔ کیونکہ گیس والوں کے لیے 5 لیٹر ہے اور بے گیس والوں کے لیے دس لیٹر۔ مولانا شکیل صاحب نے کہا کہ یہ قاعدہ مجھ کو معلوم نہیں تھا اور دکاندار ہم کو 5 لیٹر سے زیادہ نہیں دیتا تھا۔ ہندو افسر نے کہا کہ آپ کا دکاندار اگر دس لیٹر نہ دے تو دوبارہ میرے پاس آئیے۔ (ڈائری، 14 مارچ 1995)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader