Urdu book · علما اور دینی مدارس

موت کے عقیدے نے زندگی دے دی

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

صرف ان کی بیوی تھیں اور چند چھوٹے بچے ۔ اب مذکورہ نوجوان ہی گھر کے بڑے کی حیثیت رکھتے تھے ۔ ان کو اپنی ذمہ داری کا شدید احساس ہوا۔ والد صاحب کی وفات کا مطلب ان کے لیے صرف ایک تھا ۔ یہ کہ وہ مزید تعلیم کا ارادہ ترک کر کے اپنے گھر چلے جائیں اور اپنے والد صاحب کی طرح کھیتی باڑی کے کام میں لگ کر گھر کا انتظام سنبھالیں ۔ مدرسے میں ایک بزرگ سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ اس کے بعد وہ ان سے ملے اور کہا ”حضرت ! اب میں یہاں سے جا رہا ہوں اور آپ سے آخری ملاقات کے لیے آیا ہوں“۔ بزرگ نے کہا : آخر کیا بات ہے ۔ کہاں جا رہے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور میں ہی اپنے گھر میں سب سے بڑا ہوں ۔ اس لیے اب مجھ ہی کو گھر کا انتظام سنبھالنا ہے۔ شاید قدرت کو یہی منظور ہے کہ میرے ہاتھوں میں ”قلم“ کے بجائے ”ہل“ ہو۔ بظاہر اب میرے لیے مزید تعلیم کا کوئی سوال نہیں ۔ بزرگ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے : ” کیا موت آپ کے لیے نہیں ہے ۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ گھر پہنچ کر آپ کا انتقال نہیں ہو جائے گا ۔ پھر اگر آپ کا بھی انتقال ہو گیا تو ۔ “ اس کے بعد بزرگ نے کہا کہ کسی گھر کا سنبھالنے والا کوئی بڑا نہیں ہوتا ۔ ہر گھر کا سرپرست اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے ۔ کسی کے جینے مرنے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ آپ اپنے تعلیمی منصوبے کو جاری رکھیے اور گھر کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجیے ۔ ” آپ تھوڑی دیر کے لیے سمجھ لیجیے کہ میرا بھی انتقال ہو گیا ہے “۔ یہ بات نوجوان کے دل کو لگ گئی ۔ انہوں نے گھر کا خیال چھوڑ دیا اور اس کے معاملے کو اللہ کے حوالے کر کے اپنی تعلیمی جدوجہد شروع کر دی ۔ انہوں نے مدینہ کے جامعہ اسلامیہ میں درخواست بھیجی اور اس کے لیے ضروری کوششیں کرنے لگے۔ کوشش کامیاب رہی اور ان کا داخلہ جامعہ اسلامیہ ( مدینہ ) میں ہو گیا۔ انہوں نے مدینہ کا سفر کر کے جامعہ اسلامیہ میں اپنی تعلیم مکمل کی ۔ وہاں سے فراغت کے بعد وہ سعودی عرب کے دار الافتاء کے تحت افریقہ کے ایک ملک میں مبلغ اور استاد کی حیثیت سے بھیج دیے گئے ۔ 11 اپریل 1980 کو ایک ملاقات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page