علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
میں انہوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ افریقہ میں رہتے ہوئے اُن کو دس سال ہو چکے ہیں۔ اور ان کی موجودہ زندگی سے وہ اور ان کے گھر والے دونوں مطمئن ہیں۔ وہ اپنے کو ایک کامیاب انسان سمجھتے ہیں اور یہ کامیابی ان کو اس مختصر سے جملہ سے ہوئی کہ ـــ سمجھ لیجیے کہ آپ کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ موت کا عقیدہ بظاہر منفی عقیدہ ہے۔ مگر وہ اپنے اندر زبر دست مثبت اثرات رکھتا ہے۔ جس کو موت کا یقین ہو، زندگی کے بارے میں اس کا یقین بڑھ جاتا ہے۔ جو اپنے کو مرتا ہوا دیکھ لے وہ اپنی زندگی میں زیادہ باعمل ہو جاتا ہے۔ (الرسالہ، جون 1980) تعصب کی حد جار اللہ زمخشری (538-467 ھ) ایک معتزلی عالم تھے۔ معتزلہ سے عام مسلمانوں کا اختلاف اتنا بڑھا کہ وہ ان کی کتابوں کے دشمن ہو گئے۔ فرقہ معتزلہ میں کثرت سے علما تھے اور انہوں نے بہت بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں مگر ان کی تمام کتابیں جلا دی گئیں ۔ اس میں صرف ایک استثنا ہے اور وہ زمخشری کا ہے۔ زمخشری اگر چہ معروف معتزلی تھا۔ تاہم اس کی دو کتابیں المفصل ( نحو) اور الکشاف ( تفسیر قرآن) آج بھی موجود ہیں اور علما ئے اہل سنت کے درمیان بدستور مقبول ہیں، اور علمی مرجع کے طور پر کام دیتی ہیں۔ اسی طرح ابن منظور (711-630 ھ) ایک شیعہ تھا۔ شیعی گروہ اور اہل سنت کے درمیان ایک ہزار سال سے زبردست اختلافات موجود ہیں۔ آج تک ان میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ شیعہ علما کی کتابیں صرف شیعہ فرقہ کے درمیان رائج ہیں۔ سنی علما ان کو دیکھتے ہیں تو تردید کے لیے، نہ کہ استفادہ کے لیے۔ مگر یہاں بھی بعض استثنا ہیں ۔ مثلاً ابن منظور کی کتاب لسان العرب (لغت) کو اہل سنت کے علما کے درمیان خصوصی مقام حاصل ہے اور اہل علم عام طور پر اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader