Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

زمخشری کا اعتزال اور ابن منظور کی شیعت ان کی کتابوں کو علمائے اہل سنت کے درمیان مقبول بنانے میں حارج نہ ہو سکتیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایسی کتابیں لکھی جن کے مثل اس موضوع پر کوئی دوسری کتاب موجود نہ تھی ۔ ان کی مقبولیت ان کے امتیازی عمل کی قیمت ہے۔ بعض آدمی کا کام اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ اعتقادی اختلافات ان کو قبول کرنے میں خارج نہیں ہوتے۔ زندگی کے معاملات کو سمجھنے کے لیے جن لوگوں کو صرف "تعصب" کا لفظ معلوم ہے انہیں ایک اور حقیقت کی خبر نہیں۔ وہ یہ کہ تعصب کے عمل کی بھی ایک حد ہے۔ ایک حد کے بعد تعصب غیر مؤثر ہو جاتا ہے، یہ حد ہے "امتیاز"۔ اگر آپ اپنی کارکردگی کو عام معیار سے بڑھا کر امتیاز کے درجہ میں پہنچا دیں تو تعصب کی دیواریں اپنے آپ گر جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپ کا دشمن بھی آپ کا اتنا ہی قدرداں بن جاتا ہے جتنا آپ کا دوست۔ (الرسالہ، ستمبر 1983) علم کا حصول عربی کا ایک مقولہ ہے: العِلْمُ لَا يُعْطِيكَ بَعْضَهُ حَتَّى تُعْطِيَهُ كُلَّكَ (علم تم کو اس وقت تک اپنا جزء نہیں دیتا جب تک تم اس کو اپنا کل نہ دے دو)۔ یہ مقولہ نہایت صحیح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کے حصول کے لیے یکسوئی اور ارتقا لازمی طور پر ضروری ہیں۔ کامل ذہنی یکسوئی کے ساتھ جب کوئی شخص لمبی مدت تک محنت کرتا ہے، اس کو علم کا کوئی حصہ ملتا ہے۔ تاہم یہ حصہ بھی صرف جزئی ہوتا ہے۔ انسان کی محدود عمر کے مقابلہ میں علم کا دائرہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ کوئی شخص اپنی ساری زندگی لگا دینے کے بعد بھی علم کے صرف ایک جزء تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ علم کے کل تک پہنچنا موجودہ دنیا میں کس بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ (ڈائری ، 14 جون 1997)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page