شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 125
By Maulana Wahiduddin Khan
شبلی اور علی گڑھ مولاناشیلی نعمانی(1914-1857)کا تعلق علی گڑھ سے 1883ء میں قائم ہوا۔ اور سولہ برس تک جاری رہا۔ شبلی کا تعلق جس خاندان سے تھا، وہ سرسید کی تعلیمی تحریک سے بہت متاثر تھا۔ ان کے والد شیخ حبیب اللہ صاحب اس کے زبردست حامی تھے۔ اور اپنے لڑکے مہدی حسن صاحب کو حافظ بنانے کے بعد مزید تعلیم کے لیے علی گڑھ کالج میں داخل کرایا تھا۔ 1883ء میں کالج کو مشرقی زبانوں کے ایک معلم کی ضرورت ہوئی۔ مولاناشیلی نے اس جگہ کے لیے درخواست بھیجی جو سرسید اور مولوی محمدسمیع اللہ خاں صاحب کی اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ مولانا کو ایف اے اور بی اے کی کلاسوں کو عربی اور فارسی پڑھانے کا کام سپرد ہوا۔ مولانا کا تقرر اس وقت چالیس روپے ماہوار پر ہوا تھا۔ شروع زمانہ کا واقعہ ہے، کالج میں کوئی تقریب تھی جس میں استادوں کی کرسیاں تنخواہ کی ترتیب سے بچھائی گئی تھیں۔ اس ترتیب میں مولاناشیلی کی کرسی سب سے پیچھے تھی۔ اپنی یہ حالت دیکھ کر مولاناشیلی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مگر صلاحیت ایسی چیز ہے جو اپنے آپ کو منوا کر رہتی ہے۔ چنانچہ جلد ہی بعد ایسا ہوا کہ نہ صرف ان کی تنخواہ بڑھ گئی، بلکہ اپنے علم و فضل کی بدولت انہوں نے کالج کی بزم میں صدر نشینی کی حیثیت حاصل کرلی۔ سب سے پہلے تو ان کی وہ مرعوبیت ختم ہوئی، جو اس زمانے میں ایک مولوی کو عام طور پر انگریزی دانوں سے ہوتی تھی۔ علی گڑھ جانے کے چند ہی مہینے بعد ایک عزیز کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں: یہاں آ کر میرے تمام خیالات مضبوط ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ انگریزی خواں فرقہ نہایت مہمل فرقہ ہے۔ مذہب کو جانے دو، خیالات کی وسعت، سچی آزادی، بلند ہمتی، ترقی کا جوش برائے نام نہیں۔ یہاں ان چیزوں کا ذکر تک نہیں آتا، بس خالی کوٹ پتلون کی نمائش گاہ ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader