شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے شہر کے نوخیز لڑکے مجھ کو بی اے کی نسبت (اس زمانے میں بی،اے بڑی چیز تھی) یہ خیال دلاتے تھے کہ مذہبی باتوں کو تمام تر ضعیف ثابت کر دیں گے۔ لاحول ولا....... وہ غریب تو زمین کی حرکت بھی نہیں سمجھ سکتے۔ (حیات شبلی، 1943، صفحہ 131) اس کے بعد کالج کی دنیا میں شبلی کو جو مقام ملا، اس کو مولانا سید سلیمان ندوی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’محدّن کالج علی گڑھ اپنے طرز کا پہلا کالج تھا جس میں انگریز، ہندو، مسلمان، ہر قسم کے استاد اور شاگرد تھے۔ ایسے ماحول میں ایک پرانا بوریا نشیں عالم جس نے کبھی انگریزی کا ایک حرف بھی نہیں پڑھا، جس نے انگریزوں کی صحبت کبھی نہیں اٹھائی تھی، جو نئے تہذیب و تمدن کے سایہ میں کبھی نہیں بیٹھا تھا، یکا یک آیا اور اس پورے ماحول میں رہ کر اس طرح سب میں سما گیا کہ وہ کہیں سے بیگانہ نہیں ہونے پایا۔ مولانا شبلی کا حال یہ تھا کہ وہ ہر محفل پر چھائے رہتے تھے اور ہر علمی بحث میں ان کا قول فیصل تھا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی بلکہ علمائے اسلام کی قدر و منزلت کو بڑھا دیا اور قدیم علوم و فنون کے مرتبہ کو اتنا اونچا کیا کہ پروفیسر آرنلڈ اور دوسرے انگریز پروفیسروں کو ان کی تحسین بلکہ تحصیل پر مجبور کر دیا۔ ایسے زمانہ میں جب کہ کالج میں ہر طرف سے نئے علوم نئے مسائل، اور نئی تحقیقات کی بارش ہو رہی تھی، ایک مولانا ہی کا وجود تھا جو اس مسلسل بارش کے طوفان میں اسلامی علم و فن کے منارہ کو اس مضبوطی سے اپنی جگہ پر جمائے ہوئے تھا کہ ان کو اس طوفان خیز سیلاب سے کوئی خطرہ نہ رہا۔‘‘ (حیات شبلی، صفحہ 148) حقیقت یہ ہے کہ مولانا شبلی نے علی گڑھ میں قیام کر کے ایک عظیم سبق دیا ہے۔ یہ سبق کہ عزت اور مقام حاصل کرنے کا راز صرف تنخواہ اور ڈگریاں نہیں ہیں۔ ایک خالص مولوی آدمی بھی بالکل ماڈرن ماحول میں عزت اور مقام حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ علم اور قابلیت رکھتا ہو۔ شبلی کو علی گڑھ میں یہ مقام ان کی گوناگوں صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ اس دور میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader