شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
خیالات کو شعر کے پیرہن میں ظاہر کرنے کا خاص ذوق تھا۔ مولانا شبلی اس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ نہایت اعلیٰ مذاق کے اشعار لکھتے تھے اور نہایت موثر لہجے میں پڑھتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علی گڑھ میں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ کالج کے ہر جلسہ اور تقریب میں مولانا کی نظم اس کے پروگرام کا ضروری جزء ہوتی تھی۔ اس وقت کے علی گڑھ میں شبلی کو شاعر کی حیثیت سے جو مقام حاصل تھا اس کا نقشہ ان کے دو شعروں میں بڑی اچھی طرح نظر آتا ہے۔ پچھلی صدی کے آخر میں مولانا شبلی نے روم اور مصر و شام کا سفر کیا تھا۔ واپس آئے تو علی گڑھ میں بڑا شاندار استقبال ہوا۔ اس سلسلہ میں طلباء کی یونین نے بھی 6 دسمبر 1892ء کو ایک بزم دعوت ترتیب دی۔ اس موقع پر مولانا نے اپنا ایک قصیدہ پڑھا جس کے دو شعر حسب ذیل تھے: قاصد خوش خبر امروز از ساز آمد کز سفر یار سفر کرده ما باز آمد از سفر شبلی آزاده به کالج برسید یا مگر بلبل شیراز به شیراز آمد اس زمانہ میں علی گڑھ کی تاریخ دیکھیے تو یہ الفاظ بالکل ایک واقعہ کا بیان معلوم ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے علی گڑھ کو اگر شیراز سے تشبیہ دی جائے تو شبلی اس شیراز کے بلبل تھے۔ اسی طرح تقریر کا ملکہ بھی مولانا شبلی میں غیر معمولی تھا۔ جس جلسہ میں تقریر کرتے پورے مجمع پر چھا جاتے۔ 1900ء میں رام پور میں ایجوکیشنل کانفرنس کا جلسہ تھا۔ اس زمانہ میں کلکتہ یونیورسٹی نے فارسی کو اپنے نصاب سے خارج کرنے کا اعلان کر کے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا تھا۔ فارسی پر یہ اعتراض تھا کہ ”فارسی کلاسیکل زبان نہیں اور دوسری زبانوں کی طرح اس میں قوت متخیله کوترتیب دینے کی قابلیت نہیں اور نہ اس کے لٹریچر میں علوم وفنون کا ذخیرہ ہے۔“ (حیات شبلی ، صفحہ 166) مولانا شبلی نے اس پر تقریر کی اور اس خوبی سے اعتراضات کو رد کیا کہ لوگ حیران و ششدر رہ گئے۔ سامعین کا یہ حال تھا کہ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس وقت بنگال کے لفٹننٹ گورنر سر ایڈورڈ برن بھی اجلاس میں موجود تھے۔ انہوں نے اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader