Urdu book · علما اور دینی مدارس

شبلی اور علی گڑھ

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی تقریر میں مولانا کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا_ "مجھ میں اتنی قابلیت نہیں کہ شبلی کی طرح پُر تاثیر تقریر کر سکوں_" (حیات شبلی، صفحہ 167) نومبر 1894ء میں یونین میں اس موضوع پر مباحثہ تھا کہ کیا ہمارا گزشتہ طرزِ تعلیم موجودہ طرزِ تعلیم سے بہتر تھا۔ مولانا نے بھی تقریر کی۔ انہوں نے موافقت کا پہلو اختیار کیا۔ یہ تقریر اتنی مؤثر ہوئی کہ طالب علموں نے عموماً مقرر کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ سید محمود نے بھی ان کے حق میں رائے دی۔ (حیات شبلی، صفحہ 160) اسی طرح ایک بار یونین میں یہ بحث تھی کہ جمہوری طرزِ حکومت بہتر ہے یا شخصی۔ جلسہ میں سرسید بھی موجود تھے۔ مولانا نے جمہوری طرزِ حکومت کی تائید کی اور اس موضوع پر ایسی مدلل تقریر کی کہ تمام طالب علموں نے ان کی موافقت میں رائے دی (حیات شبلی، صفحہ 161)۔ یہ بات آج کچھ عجیب نہیں معلوم ہوگی لیکن اگر یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ 1892ء میں پیش آیا تھا تو مولانا کی تقرری صلاحیت کی داد دینی پڑتی ہے۔ مولانا شبلی کی یہی سب خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے وہ علی گڑھ کی فضا پر چھا گئے۔ شبلی کا علی گڑھ جانا محض ایک معمولی واقعہ نہ تھا۔ بلکہ یہ جدید و قدیم کا اتصال تھا۔ شبلی گویا قدیم کے ایک قابلِ اعتماد نمائندے تھے اور علی گڑھ اپنے وقت میں جدید کی نمایاں ترین علامت تھا۔ اس اتحاد و اتصال سے دونوں کو زبردست فائدے ہوئے۔ شبلی کا علی گڑھ سے وابستہ ہونا سرسید کے لیے زبردست تقویت کا باعث بنا۔ سرسید نے کالج کے چندہ کے لیے 1882ء میں حیدر آباد کا پہلا سفر کیا تھا۔ یہ سفر ایک وفد کی شکل میں تھا جس میں تحریک کے بہت سے ممتاز لوگ شریک تھے۔ ان میں سے ایک مولانا شبلی بھی تھے۔ مولانا عبدالحلیم شرر لکھتے ہیں کہ مولانا شبلی کے اس سفر میں شمولیت سے یہ خیال لوگوں میں پھیل گیا تھا کہ وہ سرسید کے گروہ کے ایک نامور بزرگ اور ان کی فوج کے ایک نامی پہلوان ہیں۔ (حیات شبلی، صفحہ 183) شبلی کی وجہ سے کالج کے حلقہ میں اعلیٰ ترین سطح پر علومِ اسلامیہ کی نمائندگی ممکن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page