شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
ہو سکی۔ 1887ء میں لکھنؤ میں ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر سرسید نے اپنے دائرہ کے مختلف اہل علم کو اسلامی تعلیم کے کسی نہ کسی پہلو پر لکھنے کی فرمائش کی۔ مولانا شبلی نے ”مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم“ کا عنوان اپنے لیے پسند کیا۔ جب یہ مضمون لکھنؤ کے اجلاس میں پڑھا گیا تو مسلمانوں کے سامنے اپنے اسلاف کے عظیم کارناموں کا نقشہ پھر گیا اور سارے ملک میں اس خطبہ کی دھوم مچ گئی۔ مولانا عبدالحلیم شرر لکھتے ہیں” لیکچر مسلمانوں کی نظر میں بالکل نئی اور دلچسپ چیز تھا۔ چنانچہ جب اس پر دلگداز انداز میں ریویو ہوا ہے تو کوئی نہ تھا جو اس کے دیکھنے کا مشتاق نہ ہو گیا ہو“۔ (حیات شبلی ، صفحہ 172) اس زمانہ میں یورپ کی اس ”علمی تحقیق“ کا غلغلہ تھا کہ مسلمان اتنے وحشی اور جاہل تھے کہ جب حضرت عمر کے زمانہ میں انہوں نے مصر اور اسکندریہ فتح کیا تو وہاں کے مشہور یونانی کتب خانہ کو جو بطلیموس کے زمانہ سے قائم تھا جلا کر خاک کر دیا۔ اور دنیا گزشتہ انسانی دماغوں کے ورثہ سے محروم ہو گئی۔ یہ منجملہ ان واقعات میں سے تھا جس کی وجہ سے مسلمان اپنے کو احساس کمتری میں مبتلا پاتے تھے۔ مولانا شبلی نے 1892 میں اس کی تردید میں کتب خانہ اسکندریہ پر ایک مضمون لکھا اور ثابت کیا کہ یہ مسلمانوں سے صدیوں پہلے برباد ہو چکا تھا۔ اور مسلمانوں کی فتح مصر کے زمانہ میں اس کا وجود بھی نہ تھا۔ مولانا نے بتایا کہ یہ کتب خانہ خود عیسائیوں نے اپنے زمانہ میں برباد کیا تھا۔ بعد کو چھٹی صدی ہجری کے ایک عیسائی مورخ ابوالفرج ملطی نے عیسائیوں کو اس الزام سے بچانے کے لیے اس واقعہ کو غلط طور پر مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیا۔ مولانا کی یہ تحقیق مقبول ہوئی اور بعد کو خود یورپین محققین نے اس کی تائید کی۔ (حیات شبلی، صفحہ 220) اسی طرح مثال کے طور پر مسلم سلطنتوں کے خلاف ایک نفرت انگیز پروپیگنڈا وہ تھا جو جزیہ کے نام پر کیا جا رہا تھا۔ یعنی وہ محصول جو مسلمان بادشاہ صرف اپنی غیر مسلم رعایا سے وصول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader