Urdu book · علما اور دینی مدارس

شبلی اور علی گڑھ

Urdu book, p. 130

By Maulana Wahiduddin Khan

کرتے تھے۔ اس کو مخالفین اس بات کے ثبوت میں پیش کرتے تھے کہ اسلامی سلطنتوں میں غیر مذہب پر ٹیکس تھا۔ گویا کوئی غیر مسلم اس مذہبی ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر کسی اسلامی سلطنت میں اپنی جان و مال کو محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا۔ مولانا شبلی نے اس سلسلہ میں رسالہ الجز یہ لکھا جس میں تحقیق سے ثابت کیا کہ جز یہ قتل کا نہیں بلکہ نصرت کا معاوضہ ہے۔ یعنی اسلامی ملکوں میں ان غیر مسلموں سے جو فوج میں بھرتی نہیں ہوتے تھے، اس لیے یہ ٹیکس وصول کیا جاتا تھا کہ وہ ان کی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہونے کا معاوضہ تھا۔ یہ تحقیق اس وقت ایسی عجیب تھی کہ علمی دنیا پر حیرت چھا گئی۔ سرسید نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کرایا اور خود مولانا سے اس کا عربی میں ترجمہ کرایا گیا۔ بیرونی ملکوں میں بھی اس کے خلاصے اور اقتباسات شائع ہوئے۔ (حیات شبلی، صفحہ 227) مولانا شبلی کی اس طرح کی تحقیقات سے علی گڑھ میں اسلام کی علمی بلندی کی ایسی فضا قائم ہوئی کہ سرسید کو خیال آیا کہ یورپ نے اسلام اور مسلمانوں کی نسبت جو تاریخی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں ان کے جواب اور تصحیح کے لیے ایک مجلس بنائی جائے۔ چنانچہ 1892ء میں اس کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ مولانا شبلی کے مضامین اس سلسلہ میں داخل کیے گئے اور انھیں اس صیغہ کا سیکرٹری بنایا گیا۔ ان کے مضامین کے ترجمے عربی اور انگریزی میں بھی شائع کیے گئے۔ (حیات شبلی، صفحہ 161) محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کا پانچواں اجلاس 1891ء میں الہ آباد میں ہوا اس اجلاس میں بڑے بڑے با کمال جمع تھے۔ مولانا شبلی نے تجویز پیش کی: ”اس مضمون پر ایک رسالہ لکھوایا جائے کہ مسلمانوں نے اپنے عہد عروج میں جو علم یونان و مصر و ہندوستان و فارس سے حاصل کیے تھے ان پر کون سے مسائل اور علوم اضافہ کیے“۔ سرسید نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا: ”یہ ایسے عمدہ امر کی تحریک ہے جس کی بہت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page