Urdu book · علما اور دینی مدارس

شبلی اور علی گڑھ

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

ضرورت ہے۔ تمام علمی مجلسیں اس امر کے دریافت کرنے کی محتاج ہیں۔ مگر بحث اس میں ہے کہ اس کو لکھے گا کون“۔ ہمارے ہاں ایک مثل ہے ”جو بولے وہی گھی کو جادے“ پس مولوی شبلی ہی اس کو لکھیں گے۔ ”تمام مجمع سے بالاتفاق یہی آواز آئی کہ مولوی شبلی ہی لکھیں گے۔ مولوی شبلی ہی لکھیں گے“ (روداد کانفرنس الٰہ آباد 91 بحوالہ حیات شبلی، صفحہ 165) ”محمدن اینگلو اورینٹل کالج میگزین“ نے 1894ء میں ایک علمی رسالہ کی شکل اختیار کی تو اس کے اردو حصے کی ایڈیٹری مولا نا شبلی کے سپرد کی گئی۔ بحیثیت استاد مولانا کے سپرد جو مضامین تھے ان میں بھی مولانا نے اپنی قابلیت کا سکہ جما دیا تھا۔ مسعود علی صاحب محوی جو حیدر آباد دکن میں حج تھے، اور اس کے بعد دار الترجمہ کے رکن مقرر ہوئے۔ مولانا کے زمانہ میں علی گڑھ کے طالب علم تھے۔ وہ اپنے مجموعہ کلام کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ”علی گڑھ کالج کے بی اے کلاس کے فارسی نصاب میں قاآنی شیرازی (1854-1808) کے چند قصائد داخل تھے۔ مولانا شبلی فارسی کے پروفیسر تھے۔ مولانا مرحوم ان نادر الوجود استادوں میں تھے جو نہ صرف کسی مضمون کو پڑھا اور سمجھا دینے بلکہ اس مضمون کے ساتھ شاگردوں میں حقیقی دل چسپی پیدا کرنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ (حیات شبلی، صفحہ 182) مولا نا حبیب الرحمن خاں شروانی فرماتے ہیں: ”مجھ کو بھی اگر کچھ لکھنا آیا تو انھیں صحبتوں کے اثر سے تاریخ و ادب فارسی کا ذوق یہیں نشو نما پذیر ہوا ہے۔ (حیات شبلی، صفحہ 152) مقررہ درس کے علاوہ بھی طلبہ کے لیے کچھ کرتے رہتے تھے۔ مثلاً کالج میں عربی زبان کی ترقی اور طلبہ میں عربی تحریر و تقریر کا شوق دلانے کے لیے انہوں نے ایک لجنة الادب کی بنیاد ڈالی۔ اسی طرح اخوان الصفا کے نام سے ایک انجمن قائم کی جو اردو تحریر و تقریر کی مشق کے لیے تھی۔ دونوں انجمنوں میں طلبہ دل چسپی سے حصہ لیتے تھے۔ (حیات شبلی، صفحہ 60-159) 1892 میں مولانا شبلی نے ترکی اور مصر و شام کا ایک علمی سفر کیا۔ یہ سفر بھی علی گڑھ کالج کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page