Urdu book · علما اور دینی مدارس

شبلی اور علی گڑھ

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

شان بڑھانے کا سبب بنا۔ کیوں کہ بقول مولاناسید سلیمان ندوی اس وقت... "کالج کے ایک پروفیسر کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا سفر تھا۔" (حیات شبلی، صفحہ 218) چنانچه واپسی کے بعدمولانا کے اعزاز میں مختلف تقریبات اور جلسے کیے گئے۔ اس سفر میں حکومت ترکی نے آپ کو "تمغہ مجیدی" عطا کیا جو ترکی کا ایک اعلیٰ اعزاز تھا۔ اس کے بعد جنوری 1894 ء میں حکومت برطانیہ نے آپ کو شمس العلما کا خطاب عنایت کیا۔ یہ اس زمانہ کے لحاظ سے ایک خاص واقعہ تھا۔ نیز یہ پہلا واقعہ تھا جب کہ کالج کے کسی استاد کو علمی خطاب سے نوازا گیا۔ چنانچه اس کے بعد کالج میں متعدد جلسے ہوئے اور سرسید اور تمام لوگوں نے زبردست خراج عقیدت مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔ (حیات شبلی، صفحہ 238) مولانا شبلی کی وجہ سے کالج کو جو علمی وقار اور مادی فائدہ حاصل ہوا، اس کا اعتراف سرسید نے ان الفاظ میں کیا ہے: "اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے کالج کے پروفیسر مولوی محمد شبلی نعمانی نے اپنی تصانیف سے ملک کو بہت کچھ فائدہ پہنچایا ہے۔ المامون، سیرة النعمان، کتب خانہ اسکندریہ اور الجزیہ بے مثل اور بے نظیر کتابیں ہیں۔ اگر وہ نعوذ باللہ اپنے رسالہ الجزیہ کی نسبت مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ کہیں کہ فاتو ابسورة من مثلہ تو کچھ تعجب نہ ہوگا۔ جزیہ کا ایسا بیجا اور غلط الزام اسلام پر تھا جس کا آج تک کسی نے ایسی عمدگی سے جواب نہیں دیا تھا۔ بایں ہمہ انہوں نے مثل علمائے متقدمین با خدا کوئی ذاتی فائدہ ان کتابوں کی تصنیف سے نہیں اٹھانا چاہا بلکہ بالکلہ مدرستہ العلوم کو دیدیا"۔ (حیات شبلی، صفحہ 34-233) اس زمانہ میں مولانا شبلی کی کتابوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ تین تین ماہ میں ایک ایڈیشن ختم ہو جاتا تھا۔ مگر مولانا نے علی گڑھ کے زمانہ قیام میں اپنی تصانیف سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور تمام کتابیں کالج کی نذر کر دیں (حیات شبلی، صفحہ 59-158) اس کے علاوہ بعض ریاستوں سے کالج کو امداد ملنے میں مولانا کی ذات معاون بنی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page