شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
علی گڑھ کی تاریخ میں دینی رنگ پیدا کرنے والے سب سے پہلے مولانا شبلی تھے۔ شبلی دینی اعتبار سے علی گڑھ کو کیا سبق دینا چاہتے تھے ، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوگا۔ 1892 میں جب وہ ترکی گئے تو وہاں انہیں ایک کالج ( مکتبہ ملکیہ ) میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اتفاق سے اسی دوران ظہر کا وقت آگیا۔ اس وقت کوٹ پتلون میں ملبوس نوجوان ترک فوراً نماز کی تیاری میں لگ گئے۔ اس واقعہ کا والہانہ انداز میں ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: ” حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اگر مذہبی اثر سے آزاد ہو کر ترقی کریں تو ایسی ترقی سے تنزل ہزار درجہ بہتر ہے۔“۔ (حیات شبلی ، صفحہ 202) اسی طرح مولانا نے ایک تقریر میں فرمایا: ” دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ آگے بڑھتے جائیں آگے بڑھتے جائیں لیکن مسلمانوں کی ترقی یہ ہے کہ وہ پیچھے ہٹیں ، پیچھے ہٹیں۔ یہاں تک کہ صحابہ کی صف سے جا کر مل جائیں۔“۔ (حیات شبلی ، صفحہ 290) محمد علی کے اندر اسلام اور قرآن کا ذوق مولانا شبلی کے درسوں سے پیدا ہوا۔ محمد علی اس وقت علی گڑھ کے ایک طالب علم تھے اور اس کا اعتراف انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح My Life: A Fragment میں کیا ہے۔ یہ مولانا شبلی کی بیدار مغزی کا اہم ثبوت ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ مذہبی طبقہ عام طور پر انگریزی تعلیم کی صرف مخالفت کرنا جانتا تھا۔ انہوں نے اس واقعہ کو محسوس کیا کہ اصل کام لوگوں کو انگریزی تعلیم سے روکنا نہیں ، بلکہ ان کے اندر اسلامی ذہن پیدا کرنا ہے۔ تا کہ وہ جدید تعلیم کو صحیح طور پر اپنے اندر جذب کر سکیں اس سلسلہ میں انہوں نے علی گڑھ کے سولہ سالہ قیام میں جو کوششیں کیں ان میں سے ایک درسِ قرآن کا اہتمام بھی تھا۔ جس نے مسٹر محمد علی کو مولانا محمد علی بنایا۔ سجاد حیدر یلدرم کہا کرتے تھے کہ مولانا ایسے اچھوتے انداز سے قرآن پاک کا درس دیتے تھے کہ ہم اس کو سن کر وجد کرتے تھے۔ طلبہ میں سنت نبوی کا ذوق پیدا کرنے کے لیے عربی سیرت کا ایک مختصر رسالہ بدء الاسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader