شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 134
By Maulana Wahiduddin Khan
لکھا، جو کالج کے نصاب تعلیم میں داخل ہوا۔ میلاد کی مجالس کو وعظ و تبلیغ کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔ مولانا شبلی اس طرح مختلف سطحوں پر طلبہ میں دینی رنگ پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے تھے اس نے کیا نتیجہ دکھایا۔ اس کو خود مولانا کی زبان سے سنیے۔ ایک عزیز کے نام خط میں لکھتے ہیں: ”اس وقت مجھ سے نہ میری طبیعت کا حال پوچھیے، نہ کوئی اور واقعہ۔ آپ سنیے اور میں دل سے اٹھتے ہوئے جوش سے ایک تازہ کیفیت سناؤں، یوں تو مدرسۃ العلوم کے قواعد میں داخل ہے کہ لڑکے مغرب کی نماز جماعت سے پڑھیں۔ مگر ان دنوں ہوا کا رخ ہی بدل گیا ہے۔ لڑکوں نے خود ایک مجلس قائم کی ہے جس کو وہ لجنة الصلوة کہتے ہیں۔ ایک بی اے سکریٹری ہے۔ اور بہت سے تعلیم یافتہ اس کے ممبر ہیں ۔ چار بجے صبح کے بعد ایک نوجوان انگریزی خواں لوگوں کو اس پر اثر فقرے سے چونکا دیتا ہے۔ الصلوة خير من النوم پانچوں وقت کی نمازیں با جماعت ہوتی ہیں۔ اور لطف یہ کہ محض اپنی خواہش ہے۔ بیرونی دباؤ کا نام بھی نہیں، مغرب کی نماز، سبحان اللہ! کیا شان و شوکت سے ہوتی ہے کہ بس دل پھٹا جاتا ہے۔ خود سید صاحب بھی شریک نماز ہوتے ہیں اور چوں کہ وہ عامل بالحدیث ہیں، آمین زور سے کہتے ہیں۔ ان کی آمین کی گونج مذہبی جوش کی رگ میں خون بڑھا دیتی ہے۔ میں کبھی کبھی اسلام پر لکچر دیتا ہوں۔ مسجد بننے کی تیاری ہے۔ سید محمود صاحب کی سرگرمی نے اس کے پیمانہ تعمیر کو نہایت وسیع کر دیا ہے۔۔۔ سید محمود صاحب خود ہاتھ میں پھاوڑا لیں گے اور مسجد کی نیو کھودیں گے۔۔۔ مجھ کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ اس نئی زندگی کے پیدا ہونے میں میرا بھی حصہ ہے اور اس جوش مذہبی کا برانجیختہ کرنا میری قسمت میں بھی تھا“۔ ( حیات شبلی، صفحہ 150)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader