Urdu book · علما اور دینی مدارس

شبلی اور علی گڑھ

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

کالج کے لیے ایک یونیفارم کا تصور سب سے پہلے مولانا شبلی ہی نے دیا تھا۔ قسطنطنیہ کے سفر سے اپنے والد ماجد کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں: ”یہاں کے کالجوں کی ایک بات مجھ کو بہت پسند آئی۔ ہر کالج کا ایک خاص لباس ہے اور کوٹ پر گریبان کے قریب کالج کا نام لکھا ہوتا ہے۔ ہمارے کالج میں یہ طریقہ کیوں نہیں اختیار کیا جاتا۔ سید صاحب قبلہ بغیر کسی پس و پیش کے کالج کا ایک خاص لباس قرار دیں تو بہت اچھا ہے“۔ مولانا حالی کے بیان کے مطابق سرسید نے اس تجویز کو پسند کیا اور اسی کے مطابق کالج میں یونیفارم کا طریقہ رائج ہوا۔ اسی طرح قسطنطنیہ کے مسافر نے طلبہ میں معاشرت کی یکسانی پر زور دیا۔ سفرنامہ میں لکھتے ہیں: ”ہر کالج میں غریب طالب علموں کی متعد د تعداد ہے اور دولت مند ترکوں کی طرف سے ان کو اس قدر امداد دی جاتی ہے کہ وہ کالج کے تمام مصارف ادا کر سکتے ہیں۔ اس کا یہ اثر ہے کہ کالج کے احاطہ میں جا کر کوئی شخص تمیز نہیں کر سکتا کہ فلاں طالب علم غریب اور کم مقدور ہے۔ طلبہ کی یکساں حالت ان میں اتحاد اور قومیت کا نہایت قوی خیال پیدا کرتی ہے۔ اور غرباء کو اعلیٰ درجہ کی معاشرت حاصل ہونا ان میں حوصلہ مندی اور بلند نظری پیدا کرتا ہے۔ بورڈنگ کا یہ طریقہ دیکھ کر مجھ کو اپنا مدرسہ یاد آتا تھا اور میں اس کے بورڈنگ کے اختلاف مراتب پر افسوس کرتا تھا۔۔۔ میں علانیہ کہتا ہوں کہ ہمارے قومی کالج میں جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ تمام طالب علموں کا لباس، وضع، خوراک، مکان، فرنیچر کلیتاً ایک کر دیا جائے اور جو مختلف سطحیں آج کالج میں قائم ہیں، بالکل مٹا دی جائیں۔ اگر یہ نہیں تو کالج میں قومیت کی روح نہیں“۔ (صفحہ 202)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page